ٹرمپ کیخلاف عرب لیگ کا مؤقف غیرموثر، اعلامیے پر مایوسی ہوئی: ایران

تہران، 11 دسمبر، ارنا - ایرانی دفترخارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے بیت المقدس کے حوالے سے فیصلے کے خلاف عرب لیگ کے رکن ممالک کا اعلامیہ جتنی توقع کی جارہی تھی، اس کے برعکس اور غیرموثر واقع رہا.

یہ بات 'بہرام قاسمی' نے پیر کے روز تہران میں اپنی ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران ملکی اور غیرملکی صحافیوں کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہی.

عرب لیگ کے حالیہ اجلاس کے حوالے سے قاسمی نے کہا کہ توقع کی جارہی تھی عرب ممالک موثر اور مضبوط مؤقف اپنائیں گے مگر حالیہ اعلامیے سے کوئی نتیجہ نہیں نکلا اور نہ ہی یہ اعلامیہ فلسطینی قوم کی امنگوں کے مطابق تھا.

انہوں نے کہا کہ شاید لاتعلقی یا کوئی خاص پالیسی کی وجہ سے عرب لیگ کا اعلامیہ اتنا مضبوط نہیں تھا.

بہرام قاسمی نے کہا کہ خطے کی صورتحال سے عرب لیگ کے رکن ممالک کو مزید ہوشیار رہنا ہوگا کیونکہ موجودہ حالات سے ان ممالک کو بھی خطرہ ہوسکتا ہے.

انہوں نے کہا کہ کل بروز بدھ اسلامی تعاون تنظیم (OIC) کے سربراہوں کے غیرمعمولی اجلاس کا انعقاد کیا جائے گا جس میں ایران کے اعلی سطح وفد کی شرکت متوقع ہے اور ہمیں امید ہے کہ اس اجلاس سے تمام ممالک کے مشترکہ اور مؤقف سامنے آئے.

فرانسیسی صدر کے آئندہ دورہ ایران کے حوالے سے قاسمی نے بتایا کہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات انتہائی اہم ہیں اور دوطرفہ مشاورت کا سلسلہ جاری ہے اور مستقبل میں بھی جاری رہے گا.

انہوں نے مزید کہا کہ فرانس کے وزیرخارجہ جلد ایران کا دورہ کریں گے جس کے بعد فرانسیسی صدر کے دورے پر بھی کام کیا جائے گا.

بہرام قاسمی نے فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون کے حالیہ ایران کے حوالے سے مؤقف پر اپنے ردعمل میں کہا کہ ہم سمجھتے ہیں بعض یورپی رہنما بشمول فرانسیسی قیادت کو چاہئے کہ اپنے غیرسنجیدہ مؤقف پر نظرثانی کریں.

مسئلہ فلسطین اور ٹرمپ کے حالیہ فیصلے پر تبصرہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے خطے میں افراتفری بالخصوص عرب ممالک میں اختلافات کی وجہ سے آج امریکہ کی جانب سے ایسا قدم اٹھانے کا موقع آگیا.

قاسمی نے مزید کہا کہ ہم سمجھتے بعض ممالک کو اس فیصلے سے پیشگی تھی جو فلسطین، القدس اور پورے عالم اسلام کے ساتھ سنگین غداری کے مترادف ہے.

انہوں نے ایران جوہری معاہدے کے نفاذ کے باوجود بینکنگ شعبے میں بعض مشکلات برقرار رہنے کے حوالے سے بتایا کہ ایران کے مرکزی بینک کو اس حوالے سے مزید کردار ادا کرنا چاہئے تاہم دفترخارجہ بھی مرکزی بینک کے ساتھ تعاون کرتا رہے گا.

انہوں نے مزید کہا کہ جوہری معاہدے کے نفاذ کی راہ میں موجود رکاوٹوں کے تانے بانے امریکہ سے ملتے ہیں مگر اس کے باوجود ہمیں امید ہے کہ یورپی ممالک بھی بینکاری شعبے کی بحالی کے لئے موثر قدم اٹھائیں گے.

274**

ہميں اس ٹوئٹر لينک پر فالو کيجئے. IrnaUrdu@