خطے میں کشیدگی ہوئی تو نقصان کا ذمہ دار امریکہ ہوگا: ایرانی وزیر دفاع

تہران، 11 دسمبر، ارنا - اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر دفاع اور لاجسٹک نے بیت المقدس کو صہیونی دارالخلافہ تسلیم کرنے کے امریکی فیصلے کو فلسطینی قوم کے حقوق کے خلاف گہری سازش قرار دیتے ہوئے اس بات پر انتباہ کیا ہے کہ خطے میں مزید کشیدگی اور جنگ کی صورتحال پیدا ہوئی تو نقصان کو ذمہ دار خود امریکہ ہوگا.

یہ بات بريگيڈيئر جنرل 'امیر حاتمی' نے پیر کے روز محکمہ دفاع کے سنیئر حکام کے ساتھ ایک اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے کہی.

انہوں نے کہا کہ امریکی صدر کی جانب سے مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کی شیطانی سازش کا مقصد مظلوم فلسطینی عوام کے حقوق کی پامالی ہے مگر اس کے جاہلانہ اقدام کے ساتھ جابر صہیونی حکومت جلد سے تباہ اور مسلمانوں کے درمیان باہمی اتحاد اور یکجہتی میں اضافہ ہوجائے گا.

جنرل حاتمی نے شام اور عراق میں عالمی سامراج کی شکست کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ اس بڑی ناکامی کے بعد نئی سازشیں کر رہا ہے مگر ناجائز صہیونی ریاست جانتا ہے کہ ٹرمپ کے ایسے غلطی اقدام القدس کی صورتحال میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی اور فلسطینی قوم اس کی آزادی کے لئے زیادہ متحد ہو گی.

انہوں نے امریکی حکومت کے جاہلانہ اقدام کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ جابر صہیونیوں فلسطین سے باہر نکلنے پر مجبور ہوں گے اور مسلمانوں ہرگز فلسطینی سرزمین سے قدس کے الگ نہ ہونے کی اجازت نہیں دیں گے.

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ مقبوضہ بیت المقدس کے حوالے سے ہونے والے فیصلے سے خطے کی سیکورٹی اور سیاسی صورتحال متاثر ہوگی اور ایسے تمام تنازعات اور کشیدگیوں کے ذمہ دار امریکہ اور ناجائز صہیونی ریاست ہیں.

ایرانی وزیر دفاع نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کی پہلی پالیسی مظلوم فلسطینی قوم کی حمایت، علاقائی استحکام، امریکہ اور ناجائز صہیونی ریاست کی شیطانی سازشوں کی مذمت کرنا ہے.

انہوں نے داعش دہشتگردوں کی شکست کو اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ناجائز صہیونی ریاست نے شیعہ اور سنی قوم کے درمیان تنازعات پیدا کرنے کے لئے داعش دہشتگرد گروپ جیسے ایک خطرناک سازش کی.

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ خطے میں دشمن بالخصوص امریکہ اور اسرائیل کی سازشیں جاری ہیں اسی لئے اسلامی دنیا کو ہمشیہ ہوشیار رہنا چاہیئے.

خیال رہے کہ عالمی مخالفت کے باوجود ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ ہفتے مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے امریکی سفارت خانے کو تل ابیب سے بیت المقدس منتقل کرنے کی ہدایات جاری کردیں.

واضح رہے کہ القدس شریف مسلمانوں کا پہلا قبلہ گاہ اور فلسطینی سرزمین سے الگ نہ ہونے والا حصہ ہے جس کو مسلمانوں اور پورے عالم اسلام کے درمیان اہم حیثیت حاصل ہے.

یقینا قدس شریف اسلامی ملک فلسطین کا حقیقی اور اصل دارالخلافہ ہے اور امریکہ منفی اقدامات اور بحرانوں سے اس حقیقت کو نظرانداز نہیں کرسکتا.

9393*274**

ہميں اس ٹوئٹر لينک پر فالو کيجئے. IrnaUrdu@