ٹرمپ فیصلہ نئی انتفاضہ کے آغاز، امریکی مداخلت کا دور ختم ہورہا ہے: اعلی ایرانی کمانڈر

تہران، 11 دسمبر، ارنا - ایرانی مسلح افواج کے سربراہ اور پاسداران انقلاب فورس کے اعلی کمانڈروں کا کہنا ہے کہ مغربی ایشیائی خطے میں امریکہ کی براہ راست مداخلت کا دور ختم ہورہا ہے جبکہ ٹرمپ کے حالیہ بیت المقدس کے حوالے سے فیصلہ نئی انتفاضہ کا آغاز ہے.

ایرانی سپہ سالار میجر جنرل 'محمد حسین باقری' اور سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی فورس (IRGC) کے نائب کمانڈر بریگیڈیر جنرل 'حسین سلامی' نے نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی میں منعقدہ ایک کانفرنس میں الگ الگ خطاب کرتے ہوئے القدس کے حوالے سے امریکی صدر کے حالیہ فیصلے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے.

جنرل باقری نے کہا کہ امریکی صدر کا القدس کے حوالے سے فیصلہ خباثت مبنی پر مبنی جس کا اصل مقصد ناجائز صہیونی ریاست کی حمایت ہے مگر اس اقدام سے فلسطین سے متعلق نئی انتفاضہ کا آغاز ہوگا.

انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ کے حالیہ بیوقوفانہ فیصلے سے وہاں کے ماہرین اور سیاستداوں کے لئے بھی حیران کن ہے تاہم اس فیصلے سے مزاحمتی عمل فرنٹ کے لئے مثبت اقدامات سامنے آئیں گے.

پاسداران انقلاب کے سنیئر کمانڈر نے بھی اس موقع پر کہا کہ صہیونیت امریکہ کے سامراجی چہرے کا ایک حصہ ہے، امریکہ مغربی ایشیائی خطے میں دیگر ممالک کی کمزوری چاہتا ہے جس کا مقصد ناجائز صہیونی ریاست کو تحفظ فراہم کرنا ہے.

بریگیڈیر جنرل حسین سلامی نے کہا کہ ناجائز صہیونی ریاست خطے میں تناو اور کشیدگی کی جڑ ہے.

خیال رہے کہ عالمی مخالفت کے باوجود ڈونلڈ ٹرمپ نے مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے امریکی سفارت خانے کو تل ابیب سے بیت المقدس منتقل کرنے کی ہدایات جاری کردیں.

274**

ہميں اس ٹوئٹر لينک پر فالو کيجئے. IrnaUrdu@