وائٹ ہاؤس کے راستے پر نہ چلیں: ظریف کی یورپی ملکوں کو تجویز

تہران، 11 دسمبر، ارنا - ایران کے وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ امریکہ قابل بھروسہ ملک نہیں لہذا یورپی ریاستیں نہ وائٹ ہاؤس کے راستے پر چلیں اور نہ ہی ماضی کی غلطیوں کو دہرائیں.

'محمدجواد ظریف' نے امریکی اخبار 'نیو یارک ٹائمز' میں شائع ہونے والے اپنے مضمون میں مزید کہا کہ امریکہ نے گزشتہ ایک سال کے دوران ایران کے خیرسگالی رویے کا جواب ہمیشہ منفی انداز میں دیا.

انہوں نے مزید کہا کہ عالمی ماحولیاتی تحفظ معاہدے سے علیحدگی سے لے کر بیت المقدس کے حوالے سے حالیہ ٹرمپ کے حالیہ فیصلے امریکہ ناقابل بھروسہ ملک ہونے کی علامت ہیں.

ظریف نے بتایا کہ یورپ کی جانب سے وائٹ ہاؤس کے راستے پر چلنا اور جوہری معاہدے سے ہٹ کے غیرمتعلق مسائل پر متنازعہ بنانا ایران کی اہم تشویش ہے اس لئے ایران نے یورپ پر زور دیا کہ وہ ماضی کی غلطیوں کو دہرانے سے باز رہے.

انہوں نے بتایا کہ تاریخی جوہری معاہدے سے پہلے برطانیہ، فرانس اور جرمنی کے ساتھ بھی جوہری مسئلے پر مذاکرات کے گئے تھے مگر ان ممالک نے سابق امریکی صدر جارج بوش کے دباؤ میں آکر مذاکرات سے دستبردار ہوئے جس کی وجہ سے مذاکرات ناکام ہوگئے.

ایرانی وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ جوہری معاہدہ تناؤ اور کشیدگی کے مقابلے میں سفارتی فتح کی علامت ہے اور اسے کمزور کرنا بڑی غلطی ہوگی.

اسلامی جمہوریہ ایران کی عسکری قابلیت اور میزائل طاقت کے حوالے سے ظریف نے بتایا کہ ہمارے عسکری طاقت بین الاقوامی قوانین کے تحت ہے اور دفاعی صلاحیت میں اضافہ کرنا ہمارا قانونی اور اخلاقی حق ہے.

انہوں نے کہا کہ ہم اپنی قوم کا دفاع کرنے پر صرف بات نہیں کرتے، ہم اپنے میزائل کو صرف اپنے دشمنوں (صدام اور اس کے دہشتگرد ساتھی جن کی تنظیم نام نہاد اسلامی حکومت) کے خلاف استعمال کرتے ہیں اور ہم نے دہشتگردوں کی جانب سے نہتے ایرانی شہریوں کا بے دردی سے قتل کرنے کا جواب دیا ہے.

محمد جواد ظریف نے اپنے اس مضمون میں مزید کہا کہ ایران میں ایسی کوئی حکومت نہیں ہوگی جو اپنی قوم کا دفاع نہ کرے لہذا یورپی یونین جان لے کے وہ اپنی کوششیں مشرق وسطی کے خطے میں جنگوں کو روکنے پر مرکوز کرے.

انہوں نے شام میں بہتر صورتحال اور یمن کے بگڑتے حالات کا حوالہ دیتے ہوئے ظریف نے کہا کہ ایران نے یمن میں جنگ بندی، انسانی امداد کی ترسیل اور تمام گروہوں کے درمیان قومی مذاکرات کے آغاز کی تجاویز پیش کیں مگر دوسری طرف انسانی بحران کے ذمہ داروں نے اپنے مغربی اتحادیوں کے ساتھ یمن پر جارحیت اور بمباری کو جارحیت کو جاری رکھنے کو بہتر سمجھے.

274**

ہميں اس ٹوئٹر لينک پر فالو کيجئے. IrnaUrdu@