ایران جوہری معاہدے کیخلاف ٹرمپ پالیسی غیرموثر ہے: برطانوی وزیرخارجہ

تہران، 11 دسمبر، ارنا - برطانیہ کے وزیرخارجہ کا کہنا ہے کہ امریکہ میں عمومی طور پر ایران جوہری معاہدے کو برقرار رکھنے کی فضا قائم ہے لہذا اس عالمی معاہدے کے خلاف صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیاں غیرموثر ثابت ہوں گی.

ان خیالات کا اظہار 'بورس جانسن' نے اپنے حالیہ دورہ تہران کے موقع پر اسلامی جمہوریہ ایران کے نائب صدر اور قومی جوہری توانائی ادارے کے سربراہ 'علی اکبر صالحی' کے ساتھ ایک ملاقات میں گفتگو کرتے ہوئے کیا.

اس موقع پر انہوں نے کہا کہ ہم نے امریکہ کے حالیہ دورے اور کانگریس کے نمائندوں کے ساتھ ملاقات کے موقع پر جوہری معاہدے کی حمایت پر زور دیا.

جانسن نے دونوں ممالک کے درمیان بینکاری تعلقات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ہماری کوششوں کے ساتھ بینکاری رکاٹیں دور ہو رہی ہیں.

انہوں نے برطانیہ کی جانب سے ایران جوہری معاہدے کی حمایت کو اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران خطے کے بحرانوں کے حل میں اہم کردار ادا کر رہا ہے.

صالحی نے اس بات پر زور دیا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کی پہلی پالیسی جوہری معاہدے کے مطابق عمل کرنا ہے.

انہوں نے بینکاری تعلقات میں رکاٹوں کو دور کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ جوہری معاہدے کے تحفظ کے لئے ایسی رکاوٹوں کو دور کرنا ناگزیر ہیں.

اس ملاقات کے دوران فریقون نے علاقائی ممالک سمیت عراق، شام اور یمن کی تازہ ترین تبدیلیوں اور ایران اور سعودی عرب کے درمیان تعلقات کا جائزہ لیا.

دونوں ممالک کے اعلی حکام نے سائنسی، جوہری طب اور ادویات کے شعبوں میں باہمی تعاون کی ترقی پر دلچسبی کا اظہار کیا.

بورس جانسن ہفتہ کی رات سرکاری دورے پر ایران پہنچ گئے اور وہ اپنے ایرانی ہم منصب محمد جواد ظریف، ایرانی صدر حسن روحانی، اعلی قومی سلامتی کونسل کے سیکریٹری ایڈمیرل علی شمخانی اور ایرانی اسپیکر علی لاریجانی کے ساتھ بھی ملاقاتیں کیں.

9393*274**

ہميں اس ٹوئٹر لينک پر فالو کيجئے. IrnaUrdu@