ایران جوہری معاہدے کی حمایت کرتے ہیں: برطانوی وزیرخارجہ

تہران، 10 دسمبر، ارنا - برطانیہ کے وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ ان کا ملک ایران اور عالمی قوتوں کے درمیان طے پانے والے ایٹمی سجھوتے کو ایک عالمی معاہدہ سمجھتا ہے اور وہ اس کی مکمل حمایت کرتے ہیں.

ان خیالات کا اظہار 'بورس جانسن' نے دورہ تہران کے موقع پر ایران کی اسلامی مجلس شوریٰ (پارلیمنٹ) کے اسپیکر 'علی لاریجانی' کے ساتھ ایک ملاقات میں گفتگو کرتے ہوئے کہی.

اس موقع پر انہوں نے ایران کے مغربی صوبے کرمانشاہ میں حالیہ زلزلے کے نتیجے میں ہونے والے انسانی نقاصانات پر تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جوہری معاہدہ ایک اہم بین الاقوامی سمجھوتہ ہے جس کی ہم بھرپور حمایت کرتے ہیں.

انہوں نے مزید کہا کہ برطانیہ سمجھتا ہے کہ ایرانی عوام نہ صرف پُرامن جوہری ٹیکنالوجی کے شعبے میں بلکہ اقتصادی میدان میں بھی جوہری معاہدے کے ثمرات سے مستفید ہونا چاہئے.

جانسن نے کہا کہ ہمارے اس دورے کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان سیاسی، اقتصادی، پارلیمانی اور سیاحتی شعبوں میں کثیرالجہتی تعلقات کو فروغ دینا اور موجودہ رکاٹوں کو دور کرنا ہے.

انہوں نے ایران اور برطانیہ کے دوستی گروپ کی کارکردگیوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ ہم خطے میں قیام امن اور سلامتی کی بحالی کے لئے بھر پور کوششیں کریں گے.

انہوں نے اسلامی جمہوریہ ایران اور سعودی عرب کے درمیان موجودہ تنازعات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایسی کشیدگی کسی بھی ملک کے مفاد میں نہیں ہے اور ان مسائل حل ہونا چاہئیے.

برطانوی وزیر خارجہ نے خطے میں دہشتگرد گروپوں کی موجودگی پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بد قسمتی سے ایران اور برطانیہ کی پارلیمنٹ دہشتگرد گروپوں کے حملوں کے سامنے تھے اسی لئے ہم اس حوالے سے باہمی تعلقات کو مضبوط کرنے کا خیر مقدم کرتے ہیں.

ایرانی اسپیکر نے کہا کہ ہم یورپی یونین کے ساتھ اقتصادی تعلقات کی توسیع دینے کے لئے تیار اور خطے میں بدامنی، جنگ اور دوسرے ممالک میں فوجیوں کو تعینات کرنے کے مخالف ہیں اور 2000 میں امریکہ اور برطانیہ کی فوجیوں نے افغانستان اور عراق پر حملہ کیا اور اس حملے دہشتگردوں کے پھیلاو کی اہم وجہ تھی.

لاریجانی نے اس بات پر زور دیا کہ خطے میں ایران فوبیا کی بجائے علاقائی ممالک کی حقیقتوں پر توجہ کرنا ضروری ہے.

انہوں نے کہا کہ بحرینی اور یمنی عوام جمہوریت کے خواہاں ہیں اور برطانیہ ان مظلوم قوموں کے انسانی حقوق کی حمایت اور ان کے دشمنوں کے لئے ہتھیاروں فراہم نہ کرے.

انہوں نے کہا کہ ہم دہشتگردوں سے نمٹنے کے لئے پر عزم ہیں اور ہم نے عراقی اور شامی حکومتوں کی درخواستوں کی بناپر ان ممالک میں دہشتگردوں سے مقابلہ کیا اور خطے کے مسائل صرف مذاکرات کے ذریعہ حل ہوسکتا ہے.

لاریجانی نے کہا کہ امریکی صدر کی جانب سے بیت المقدس کو ناجائز صہیونی ریاست کے دارالحکومت تسلیم کرنے کا اقدام اس کی بیوقوفانہ غلطیوں کی نشاندہی کرتا ہے.

9393*274**

ہميں اس ٹوئٹر لينک پر فالو کيجئے. IrnaUrdu@