اگر ایران نہ ہوتا تو آج داعش کے دہشتگرد یورپ کے ہمسایہ ہوتے: ایڈمیرل شمخانی

تہران، 9 دسمبر، ارنا - اعلی ایرانی قومی سلامتی کونسل کے سیکریٹری نے ایران کی علاقائی پالیسی کے حوالے سے بعض ممالک کے منفی مؤقف پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ایران کی موثر پالیسی اور عملی اقدامات نہ ہوتے تو آج شام اور عراق میں داعش کی حکومتیں ہوتیں اور یہ دہشتگرد یورپی ممالک کے ہمسایہ بن جاتے.

ان خیالات کا اظہار ایڈمیرل 'علی شمخانی' نے ہفتہ کے روز ایران کے دورے پر آئے ہوئے برطانیہ کے وزیر خارجہ 'بورس جانسن' کے ساتھ ایک ملاقات میں گفتگو کرتے ہوئے کیا.

اس موقع پر انہوں نے کہا کہ ایران جوہری معاہدے کے نفاذ کے باجود دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعاون کی سطح میں کوئی خاص بہتری نہیں آئی مگر بینکاری لین دین کی بحالی سے تجارتی سرگرمیوں کو بڑھانے کے لئے اہم قدم ثابت ہوگا.

جوہری معاہدے کے حوالے سے امریکہ اور بعض یورپی ممالک کی عدم سنجیدگی پر تنقید کرتے ہوئے ایڈمیرل شمخانی نے کہا کہ جوہری معاہدے پر امریکی رویہ بدترین بحران ہے اور اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو نہ صرف امریکی ساکھ متاثر ہوگی بلکہ عالمی معاہدوں پر سوالات اٹھیں گے.

ایران مخالف بعض ممالک کے منفی رویے کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے انہوں نے کہ اسلامی جمہوریہ ایران دہشتگردی کے خلاف جنگ میں سنجیدہ ہے اور اس راہ میں ہم نے اپنے ہزاروں شہیدوں کی جانیں دیں.

ڈونلڈ ٹرمپ کیجانب سے بیت المقدس کو ناجائز صہیونی ریاست کا دارالخلافہ تسلیم کرنے کے فیصلے کا ذکر کرتے ہوئے ایڈمیرل علی شمخانی نے کہا کہ ٹرمپ نے اپنے اس فیصلے سے نہ چاہتے عالم اسلام کی خدمت کی، قطعی طور پر فلسطین ایک متحد ریاست ہے اور امریکہ کے نئے فیصلے سے مسئلہ فلسطین ایک بار پھر عالم اسلام کی سرفہرست پر آگیا اور تمام مسلمان قابض اور جابر صہیونیوں کی مخالفت میں میدان میں آگئے اور ایک آواز بن کر مظلوم فلسطینی قوم کی حمایت کررہے ہیں.

انہوں نے انسانی حقوق کی خلاف ورزی کرنے والے ممالک بالخصوص سعودی عرب اور بحرین کو ھتھیاروں کی فروخت کرنے پر برطانوی حکومت کے رویے پر تنقید کرتے ہوئے مغربی ممالک پر زور دیا کہ وہ اس سلسلے کو جلد بند کریں.

اس ملاقات میں برطانوی وزیر خارجہ نے ایران جوہری معاہدے کے مکمل نفاذ پر زور دیا اور کہا کہ ان کا ملک اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ مالیاتی اور بینکاری شعبوں میں دوطرفہ تعلقات کی بحالی کا خواہاں ہے.

بورس جانسن نے مزید کہا کہ برطانیہ اپنے سفارتخانے کو بیت المقدس منتقل کرنے کا کوئی ارادہ نہیں اور ہمارا سفارتخانہ تل ابیب میں ہی قائم رہے گا.

274**

ہميں اس ٹوئٹر لينک پر فالو کيجئے. IrnaUrdu@