اسلامی ممالک القدس پر متحد رہیں: ایرانی اہل سنت عالم دین

زاہدان، 9 دسمبر، ارنا - نامور ایرانی اہل سنت عالم دین اور دارالعلوم مدرسہ کے سربراہ نے اسلامی ممالک کے حکمرانوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ بیت المقدس کے حوالے سے امریکی صدر کے حالیہ فیصلے کے خلاف اتحاد اور ہم آہنگی کے ساتھ مؤقف اپنائیں.

ان خیالات کا اظہار زاہدان کی جامع مسجد مکی کے امام جمعہ و جماعت 'مولوی عبدالحمید' نے گزشتہ روز نماز جمعہ کے خطبوں میں کیا.

اس موقع پر انہوں نے ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مقبوضہ بیت المقدس کو قابض صہیونیوں کا دارالحکومت تسلیم کرنے کے فیصلے کو اشتعال انگیز اور خطرناک قرار دیتے ہوئے امریکی انتظامیہ کو خبردار کیا کہ اس قسم کے اقدام سے خطرناک نتائج مرتب ہوں گے.

مولوی عبدالحمید نے کہا کہ جبکہ ٹرمپ نے واضح طور پر قدس شریف کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم اور امریکی سفارت خانے کو تل ابیب سے بیت المقدس منتقل کرنے کا اعلان کردیا ہے اب تک اس ملک کے کسی سابق صدور نے ایسے فیصلے کی جرات نہ ہوئے تھے.

انہوں نے مزید کہا کہ مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیل کے دارالحکومت کے طور پر تسلیم کرنا جابر صہیونی ریاست کی دیرینہ خواہش تھی جو امریکی بے وقوف صدر نے ایسے ناجائز اقدام کو منظور کیا.

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ٹرمپ کا فیصلہ بہت ہی اشتعال انگیز اور خطرناک ہے کیونکہ خطی ممالک گزشتہ سالوں سے اب تک بدامنی، جنگ اور تنازعات کے شکار ہیں.

زاہدان کے دینی مدارس کے سنی رہنما نے کہا کہ امریکی حکومت، مظلوم فلسطینی قوم اور دوسرے مسلمانوں کے انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزی کرکے ناجائز صہیونی ریاست کی حمایت کے ساتھ فلسطین پر قبضہ جما لینا چاہتا ہے.

انہوں نے کہا کہ روس، یورپی ممالک اور دوسرے عالمی طاقتیں امریکہ کے بے بنیاد فیصلے پر خاموش نہ بیھٹیں کیونکہ ٹرمپ کے اس فیصلے کا مقصد خطے میں بدامنی کو ہوا دینا اور دنیائے اسلام کو کمزور کرنا ہے.

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ امریکی حکومت اور ان کا حکام جان لیں کہ ٹرمپ کے ایسے بیوقوفانہ فیصلہ اسلامی دنیا کی بیداری، باہمی اتحاد اور یکجہتی کا باعث بن جائے گا.

9393*274**

ہميں اس ٹوئٹر لينک پر فالو کيجئے. IrnaUrdu@