ٹرمپ کا فیصلہ عرب ممالک کی کمزوری اور تقسیم کا نتیجہ ہے: فلسطینی رہنما

بیروت، 9 دسمبر، ارنا - فلسطین کی اسلامی جہاد موومنٹ کے سنئیر رہنما کا کہنا ہے کہ فلسطین پر ناجائز صہیونی قبضے کے حوالے سے عرب ممالک کی کمزوری اور تقسیم کی وجہ سے آج ڈنولڈ ٹرمپ بیت المقدس پر متناعزہ فیصلہ کرنے پر آتر آیا ہے.

یہ بات 'ابو عماد الرفاعی' نے ارنا کے نمائندے کے ساتھ خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہی.

اس موقع پر انہوں نے کہا کہ بعض عرب ممالک میں خانہ جنگی اور بحرانوں کی وجہ سے مسئلہ فلسطین پیچھے چلا گیا جس کے بعد امریکہ کو بھی یہ موقع مل گیا کہ مسئلہ فلسطین کمزور ہونے سے ایسے توہین آمیز فیصلہ کرے.

انہوں نے مزید کہا کہ بعض عرب ممالک نے ناجائز صہیونی ریاست کے ساتھ خفیہ تعلقات قائم کئے بالخصوص خلیج فارس میں موجود بعض ممالک نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات کی بحالی کے لئےتعاون کیا اور آج ہم دیکھ رہے ہیں کہ ٹرمپ نے یہ صورتحال دیکھ کر القدس کے خلاف قدم اٹھانے کی جرات کی.

انہوں نے مزید کہا کہ اب وقت آگیا کہ اسلامی اقوام مضبوط قدم اٹھائیں اور اس سازش کو ناکام بنادیں اگر ایسا نہ ہوا تو عالم اسلام کو بڑی مشکل کا سامنا ہوگا.

سنیئر فلسطینی رہنما نے کہا کہ بیت المقدس پر قابض عناصر ہمیشہ مزاحمتی تنظیموں اور فلسطینی عوام سے خوفزدہ رہے ہیں کیونکہ فلسطینی عوام ہرگز لڑنے اور مزاحمت سے پیچھے نہیں ہٹا.

انہوں نے مزید کہا کہ بیت المقدس کو ناجائز صہیونی ریاست کا دارالحکومت تسلیم کرنا انتہائی خطرناک اقدام ہے کیونکہ القدس صرف فلسطین مسئلہ نہیں بلکہ اس کا تعلق پوری عرب اور اسلامی اقوام سے ہے.

274**

ہميں اس ٹوئٹر لينک پر فالو کيجئے. IrnaUrdu@