امریکی اقدام فلسطین پر قبضے کو قانونی شکل دینے کے مترادف ہے: ایرانی نمائندے

نیو یارک، 9 دسامبر، ارنا - اقوام متحدہ میں تعینات اسلامی جمہوریہ ایران کے مستقل مندوب نے مقبوضہ فلسطین کے مسئلے کو خطے میں جاری تمام بحرانوں کی جڑ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ بیت المقدس کے حوالے سے امریکہ کے حالیہ فیصلہ فلسطین پر صہیونی قبضے کو قانونی جامہ پہنانے کی سازش ہے.

ان خیالات کا اظہار 'غلام علی خوشرو' نے گزشتہ روز اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں امن ثقافت کے حوالے سے منعقدہ اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے کیا.

اس موقع پر اعلی ایرانی سفارتکار نے صدر اسلامی جمہوریہ ایران کی جانب سے پیش کردہ تشدد اور انتہاپسندی سے پاک دنیا نامی قرارداد پر عمل درآمد کرنے کے حوالے سے اقوام متحدہ کی سیکریٹری جنرل کی رپورٹ کا شکریہ ادا کیا.

انہوں نے دنیا کے ممالک سے مطالبہ کیا کہ امن دشمن عناصر بالخصوص فلسطین پر ناجائز قبضے کو رسمی شکل دینے کے حوالے سے بعض ممالک کی سازشوں کا مقابلہ کریں.

غلام علی خوشرو نے اس بات پر انتباہ کیا کہ فلسطینی عوام کے حقوق کو نظرانداز کرنے اور مسلمانوں کے مقدس ترین مقام مسجدالاقصی کے خلاف کسی بھی اقدام سے صرف صورتحال مزید کشیدہ ہوگی.

انہوں نے امریکہ کی جانب سے بیت المقدس کو ناجائز صہیونی ریاست کے دارالحکومت تسلیم کرنے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ القدس پر ناجائز قبضہ ہے جبکہ اس حوالے سے امریکی فیصلے غیرقانونی ہے.

ایران کے مستقل مندوب نے کہا کہ عالمی برادری، امریکہ اور ناجائز صہیونی ریاست کو تمام صورتحال کے ذمہ دار سمجھتی ہے.

انہوں نے شام اور عراق میں داعش سمیت دیگر دہشتگرد گروہوں کی شکست کو امن کے قیام کے لئے سنہری موقع قرار دیتے ہوئے مزید کہا کہ دہشتگردوں پر غلبہ شام اور عراقی عوام کی مزاحمت اور بہادری سے ممکن ہوا ہے.

غلام علی خوشرو نے عالمی برادری پر زور دیا کہ داعش اور اس جیسے دہشتگردوں پر عملی کامیابی کے باوجود ان کے نظریات اور انتہاپسندی کی سوچ کو بھی شکست دینی ہوگی.

274**

ہميں اس ٹوئٹر لينک پر فالو کيجئے. IrnaUrdu@