چابہار کا افتتاح، علاقائی تعاون کے فروغ کا نیا موقع: پاکستان میں ایرانی سفیر کا خصوصی مضمون

اسلام آباد، 7 دسمبر، ارنا - پاکستان میں تعینات اسلامی جمہوریہ ایران کے سفیر 'مہدی ہنردوست' نے جمعرات کے روز ایران کی اہم بندرگارہ چابہار کے حالیہ باضابطہ افتتاح کے حوالے سے ایک خصوصی مضمون لکھا ہے جو اکثر پاکستانی اخباروں نے شائع کیا.

ایرانی سفیر مہدی ہنردوست کے مکمل مضمون درج ذیل ہے:

چابہار بین الاقوامی بندرگاہ کے پہلے مرحلے کا افتتاح صدر اسلامی جمہوریہ ایران جناب ڈاکٹر حسن روحانی، خطے کے ممالک کے اعلی حکام منجملہ برادر ملک پاکستان سے جناب میر حاصل بزنجو سمندری اور وزیر امور گوادر پورٹ اتہارٹی کے چیرمین، کی موجودگی میں تین دسمبر 2017 کو ہو چکا ہے. موجودہ حالات میں اس قدم کا اٹھایا جانا مختلف حوالوں سے توجہ طلب ہے.

اول: چابہار بین الاقوامی بندرگاہ کے پہلے مرحلے کا افتتاح اسلامی جمہوریہ ایران میں بین الاقوامی سرمایہ کاروںاور تاجروں کے سرمایہ لگانے میں دلچسپی کی بہترین علامت اور ایٹمی معاہدے کے بعد کے حالات کی بہرپور جہلک ہے . دشمنوںکی طرف سے اسلامی جمہوریہ ایران کےمعاشی حالات کے خلاف سلامتی خدشات پر مبنی ماحول سازی کے باوجود تازہ ترین اتفاق، ان کے مقاصد پر کاری ضرب ہے . اس کے ساتھ ہی یہ نظریہ کہ قوموںکی تقدیر کا اختیار ان کے اپنےہاتھ میں ہونا چاہیے بہی پایہ ثبوت کو پہنچ چکا ہے.

دوم: چابہار کا تعلق فقط اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ نہیں ہے بلکہ یہ تجارت اور ترقی کےلۓضروری سہولتوںکا ذریعہ اور خطے کی اقوام اور حکومتوں کی اقتصادی یکجہتی اور یکساں سوچ شمار ہوتی ہے . اسلامی جمہوریہ ایران کے لۓ باعث افتخارہے کہ چابہار بندرگاہ کو جنوبی ایشیا کو مرکزی ایشیا اور یورپ کے ساتھ ملانے کا ایک ٹرانزٹ گیٹ کے طور پر تمام مالک کو پیش کرتی ہے .

سوم: خوش قسمتی سے چابہار کے پہلے فیز کا افتتاح پاکستان چین اقتصادی راہداری کے ذیلی منصوبہ کے تحت گوادربندرگاہ کی ترقی کے ساتھہی رو بہ عمل ہو گیا ہے۔ یہ دو کارنامے دونوں ممالک، اسلامی جموریہ ایران اور اسلامی جمہوریہ پاکستان کے راہنماؤں کے دونوں ملکوں کی مزید ترقی کے عزم صمیم کو ظاہر کرتے ہیں اور ساتھ ہی ان کے ماضی میں تاریخی، ثقافتی رشتوں اور بلوچستان اور چابہار میںموجود ہموار زمین کے ذریعے اقتصادی ترقی کے لۓیکسوئی اور تقارن کے لۓ کۓ گۓ فیصلوں کی یاد بہی دلاتے ہیں. ہمیں یہ نہیں بہولنا چاہۓ کہ گوادر اور چابہار دونوں بندرگاہیںایک دوسرے کےلۓ لازم و ملزوم اور ہر ایک اپنی جگہ خطے میں ٹرانزٹ تعلقات کے بڑےکینوس کے ایک حصہ کے طور پر کردار ادا کرتی ہیں. اس کے علاوہ کوئی بہی دوسری راۓ مکمل طول پر غلط اور دونوں عظیم پاکستانی اور ایرانی عوام کے دشمنوں کے مقاصد کو پورا کرنے کا حصہ شمار ہوتی ہے۔

چہارم: ایران و پاکستان چابہار اور گوادر کے درمیان زیادہ سے زیادہ یکسوئی کے لۓ دونوں بندرگاہوں کو جڑواںقرار دینے کی ایک مفاہمت پر دستخط کۓ ہیں اور دونوں ممالک کے اعلی حکام ان دونوں بندرگاہوں کے دورے بہی کر چکے ہیں . اسی طرح اسلامی جمہوریہ ایران نے سواحل مکران اور گوادر کی ضرورت کے پیش نظر،اس خطے اور گوادر کو بجلی کی سپلائی کو اپنے ایجنڈے پر رکہا اور اس عمل کو خطے کی مجموعی ترقی کے لۓ اپنی ذمہ داری سمجہا ہے . گذشتہ چند سالوں سے اسلامی جمہوریہ ایران نے مکران کے ساحلیعلاقوں کی ترقی کے لۓپروگرام کا آغاز کیا ہے . دونوں بندرگاہوں کے ایک ساتھترقی پانا بہی اس پروگرام میں قابل توجہ ہے . پاکستان کے وزیر سمندری امور اور گوادر ترقیاتی ادارے کے چئرمین کا حالیہ دورہ چابہار، دونوں بندرگاہوں کے درمیان سمندری تعاون کے فروغ میں اہم موڑ سمجہا جا سکتا ہے.

اس کے علاوہ یہ عمل ان نۓ حالات کی نشاندہی کرتا ہے کہ جو خطے کےامور میں علاقائی ممالک کے رہنماؤں کےفیصلوں کے لۓموجود ہیں اور دوسرے مداخلت کرنے والےممالک کے میکانیزم سےنکلنے کا ایک علاقائی راستہ بہی ہے اس کو دوسرے علاقائی تعاون کے مختلف موضوعات تک پہیلایا جا سکتا ہے.

274**

ہميں اس ٹوئٹر لينک پر فالو کيجئے. IrnaUrdu@