امریکہ، ناجائز صہیونی ریاست اور ان کے ہم خیال آج کی دنیا کے فرعون ہیں: آیت اللہ خامنہ ای

تہران، 6 دسمبر، ارنا - قائد انقلاب آیت اللہ خامنہ ای نے امریکہ، ناجائز صہیونی ریاست، سامراجی قوتیں اور ان کا ساتھ دینے والوں کو آج کی دنیا کے فرعون قرار دیتے ہوئے فرمایا ہے کہ حضور نبی پاک (ص) کی تعلیمات کی پیروی سے مسلم امہ تمام مشکلات سے نجات پاسکتی ہے.

ان خیالات کا اظہار قائد اسلامی انقلاب حضرت آیت اللہ العظمی 'سید علی خامنہ ای' نے بدھ کے روز تہران میں اعلی ایرانی حکام، اسلامی ممالک کے سفیر اور 31ویں عالمی وحدت امت اسلامی کانفرنس میں شریک مہمانوں کے ساتھ ایک خصوصی ملاقات میں خطاب کرتے ہوئے کیا.

یہ ملاقات میلاد النبی (ص) اور چھٹے امام حضرت جعفر صادق علیہ السلام کے یوم ولادت کی مناسبت سے ہوئی.

قائد انقلاب آیت اللہ خامنہ ای نے میلاد النبی (ص) کے موقع پر ایرانی قوم، تمام عالم اسلام اور حریت پسند عوام کو دلی مباکباد پیش کی.

اس موقع پر قائد اسلامی انقلاب نے فرمایا کہ عالم اسلام اگر عزت اور طاقت کا خواہاں ہے تو اسے اتحاد اور مزاحمت کا راستہ اپنانا ہوگا.

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ نبی پاک حضرت محمد مصفی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی تعلیمات پر عمل کرنے سے ہی مسلمہ امہ کو اندرونی، علاقائی اور عالمی مشکلات نجات ملے گی.

آیت اللہ خامنہ ای نے فرمایا کہ حضور رحمۃ للعالمین (ص) کی طرز زندگی کی پیروی اور ان کے راستے پر چلنے سے دنیا میں توسیع پسند عناصر اور سامراج قوتوں کو شکست دینے کا موثر اور کامیاب طریقہ ہے.

انہوں نے فرمایا کہ امریکہ، ناجائز صہیونی ریاست اور خطے میں موجود ان کے جابر اور آمر حامی آج کی دنیا کے فرعون ہیں اور در حقیقت یہ عناصر مسلمانوں کے درمیان جنگ اور مسلہ امہ کو اختلافات میں دکھیلنا چاہتے ہیں.

آیت اللہ سید علی خامنہ ای نے مزید فرمایا کہ امریکی سیاستدان چاہتے ہوئے یا نہ چاہتے ہوئے متعدد بار اس با کا اعتراف کرچکے ہیں کہ مغربی ایشیائی خطے کو تشدد اور جنگوں میں مبتلا کرکے ناجائز صہیونی ریاست کے لئے امن کی فضا قائم کرنا ہوگا اور اسی مقصد کے لئے یہ عناصر عالم اسلام کو صدمہ پہنچا کر اس کو ترقی سے روکنا چاہتے ہیں.

انہوں نے مزید فرمایا کہ دشمنوں کا اصل مقصد تکفیری گروہوں کی تشکیل اور شیعہ،سنی کے درمیان اختلافات پھیلانا ہے تاہم اللہ رب العزت نے ہمارے دشمنوں کو بے وقوف خلق کیا ہے جس کی وجہ سے مستقبل میں بھی ان دشمنوں کے عزائم ناکام ہوتے رہیں گے.

آیت اللہ خامنہ ای نے اس بات پر زور دیا کہ مزاحمت سے درندہ تکفیری عناصر کے خلاف فتح ملے گی اور اس کے علاوہ صہیونیت اور دیگر اسلام دشمنوں کے مقابلے میں مسلم امہ کی وحدت سے ہی عالم اسلام کو درپیش مسائل کو حل کیا جاسکتا ہے.

ایرانی سپریم لیڈر نے فرمایا ہے کہ اغیار کی جانب سے القدس شریف کو صہیونیوں کے دارالحکومت قرار دینا ان کی بے بسی کی علامت ہے جبکہ فلسطین آزاد ہوگا اور فلسطینی عوام کو فتح ملے گی.

اس موقع پر انہوں نے فرمایا کہ اغیار کی جانب سے القدس کو ناجائز صہیونی ریاست کا دارالحکومت قرار دینے کے دعوے ان کی بے بسی اور پریشانی کی علامت ہیں.

قائد انقلاب نے مزید فرمایا کہ مسئلہ فلسطین پر ان کے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں اور وہ اپنے مقاصد تک نہیں پہنچ سکتے.

یاد رہے کہ گزشتہ روز تہران میں 31ویں بین الاقوامی وحدت اسلامی کانفرنس منعقد ہوئی جس 500 سے زائد ملکی اور غیرملکی مہمان شریک ہوئے.

خیال رہے کہ اسرائیل کے زیر اثر مقبوضہ فلسطینی سرزمین میں موجود امریکی سفارتخانہ بیت المقدس منتقل کرنے کے حوالے سے امریکی کانگریس نے 1995 میں قانون پاس کیا تھا جس کے بعد آنے والے ہر امریکی صدر سے اس پر عملدرآمد کی کوشش کی لیکن وہ ناکام رہے.

اقوام متحدہ اور یورپی یونین سمیت دنیا کے مختلف ممالک نے امریکی انتظامیہ کو خبردار کیا کہ اس قسم کے اقدام سے خطرناک نتائج مرتب ہوں گے.

274**

ہميں اس ٹوئٹر لينک پر فالو کيجئے. IrnaUrdu@