ایرانی اور ترک ماہرین نے عالم اسلام کے سائنس و ٹیکنالوجی کے اعلی ایوارڈ جیت لئے

تہران، 4 دسمبر، ارنا - اسلامی جمہوریہ ایران اور ترکی سے تعلق رکھنے والے سنیئر ماہرین ٹیکنالوجی امور نے مصطفی (ص) نامی عالم اسلام کے اعلی ایوارڈ اپنے نام کرلئے.

دنیائے اسلام کے سائنس اور ٹيکنالوجی شعبے سے متعلق سب سے بڑا اعزاز مصطفی (ص) ایوارڈ، مواصلات اور کمپیوٹر سائنس میں پی اچ ڈی حاصل کرنے والے ایرانی سائنسدان 'محمد امین شکر اللہی' اور ترکی سے تعلق رکھنے والے کمپیوٹر سائنسدان اور الیکٹرانکس انجینئر 'سامی ارول گلنبی' کو دیا گیا.

گزشتہ روز ایرانی دارالحکومت تہران میں مصطفی (ص) ایوارڈ کے دوسرے دور کی تقریب کا انعقاد کیا گیا جس میں ایران کے جوہری توانائی ادارے کے سربراہ 'علی اکبر صالحی'، نائب ایرانی صدر برائے سائنس اور ٹیکنالوجی امور 'سورنا ستاری' اور سنیئر اعلی ایرانی حکام شریک تھے.

اس عالمی تقریب میں ایرانی اور ترکی کے منتخب سائنسدانوں نے اپنی کارکردگی اور ایجادات کے حوالے سے تقریر کی.

واضح رہے کہ مئی 2016 میں مصطفی (ص) ایوارڈ کے حوالے سے دنیائے اسلام کے 700 سائنسدان اور 200 تعلیمی مراکز کے امیدواروں نے نینو ٹیکنالوجی، انفارمیشن، بائیو ٹیکنالوجی، طب اور دیگر سائنسوں کے شعبوں میں اپنی تحقیقات اور ایجادات کو بھیجے تھے.

مصطفی (ص) ايوارڈ دینے کا مقصد مختلف سطح اور فورمز میں سائنسی پیشرفت کا جائزہ لينا، عالم اسلام کے معروف سائنسدانوں اور ماہر شخصيات کی حوصلہ افزائی اور سائنسی تعاون کی راہ کو ہموار کرنا ہے.

مصطفی (ص) ایوارڈ عالم اسلام کے سائنس اور ٹيکنالوجی سے متعلق سب سے بڑا اعزاز ہے جسے ہر دو سال ميں اسلامی دنيا کے بہترين سائنسدان اور ماہرین کو دیا جاتا ہے.

9393*274**

ہميں اس ٹوئٹر لينک پر فالو کيجئے. IrnaUrdu@