ایرانی طلبا کوئی مشکل کے بغیر تنقید کر سکتے ہیں: ایرانی صدر

زاہدان، 3 دسمبر، ارنا - ایرانی صدر مملکت نے یونیورسٹیوں میں اظہار رائے کی آزادی کی اہمیت کا ذکر کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایرانی طلبا بہادری کے ساتھ اور کوئی خوف ،پریشانی کے بغیر اپنے اساتذہ کی تنقید کر سکتے ہیں.

ان خیالات کا اظہار 'حسن روحانی' نے گزشتہ روز ایرانی صوبے سیستان و بلوچستان کے شہر زاہدان میں طلبا کے قومی دن کی مناسبت سے منعقدہ ایک تقریب میں طلبا کے ایک عظیم اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کیا.

انہوں نے مزید کہا کہ اگر آزادی نہ ہو تو تخلیق نہیں اور اگرتخلیق نہ ہو تو ابداع نہیں اسی لیے ہمیں تخلیق اور ابداع کی ضرورت ہے.

ایرانی صدر نے کہا کہ اسلامی انقلاب کا نعرہ استقلال، آزادی اور جمہوریہ اسلامی ہے تو ان مقاصد کے حصول کے لیے یونیورسٹیوں کو خود مختار اور آزاد ہوجانا چاہیے.

حسن روحانی نے ملک کی ترقی اور پیشرفت کے لیے یونیورسٹیوں کے اہم کردار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایرانی حکومت، تعلیمی اداروں کی مدد سے ملکی اور غیر ملکی منڈیوں کو ایک دوسرے کے ساتھ منسلک کر سکتی ہے.

انہوں نے کہا کہ آج ایرانی یونیورسٹیاں بعض شعبوں بشمول علم پر مبنی معیشت کے حوالے سے خودکفیل ہو گئی ہیں اسی لیے ہمیں اس کامیاب تجربے کو ملک کے دوسرے حصوں میں منتقلی کرنا چاہیے.

ایرانی صدر نے کہا کہ سائنس ایک کمرا، ایک یونیورسٹی تک محدود نہیں ہے تو سائنس کی ترقی کے لیے دنیا کی سب یونیورسٹیاں ایک دوسرے کے ساتھ باہمی تعاون کرنا ناگزیر ہیں.

تفصیلات کے مطابق، ایرانی صدر حسن روحانی گزشتہ روز اپنے اعلی سطحی وفد کے ساتھ ایرانی صوبے سیستان و بلوچستان پہنچ گئے.

**9410

ہميں اس ٹوئٹر لينک پر فالو کيجئے. IrnaUrdu@