جنگ افغانستان کے مسئلے کا حل نہیں : ظریف

باکو ، 2 دسمبر، ارنا - اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ جواد ظریف نے کہا ہے کہ افغانستان کے مسئلے جنگ کے ذریعہ سےحل نہیں ہوگا اور اس میں بات چیت کے عمل شروع کیا جانا چاہیئے.

يہ بات انہوں نے ہارٹ آف ايشيا اجلاس سے خطاب كے دوران كہي.


اس موقع پر انہوں نے كہا كہ افغانستان ميں گزشتہ سالوں ميں مختلف شعبوں ميں ايك پيشرفت ديكھنے ميں آئي ليكن ساتھ ساتھ اس ملك كو دہشت گرد تنظيم داعش اور بيروني خطرات نے گھيرليا ہوا ہے .


افغانستان سميت خطے ميں داعش كے خاتمے پر زور ديتے ہوئے انہوں نے كہا كہ اس خطرے كو جڑ سے اكھاڑنے كے لئے خطے كے ممالك مل جل كر تعاون كرنے چاہيئے.


ايراني وزير خارجہ نے كہا اسلامي جمہوريہ ايران افغانستان ميں امن و امان كي بحالي كے لئے كوئي بھي كوشش سے دريغ نہيں كرے گا.


آذربائيجان كے دارالحكومت باكو ميں منعقد ہونے والے ہارٹ آف ايشيا كے اجلاس ميں ايران كے وزير خارجہ كے علاوہ ، پاكستان ، بھارت كے وزرائے خارجہ سميت كرغيزستان، قازقستان، تاجكستان، تركمنستان كے نائب وزرائے خارجہ اور روس اور سعودي عرب كے نمائندے بھي شامل ہيں.


يہ اجلاس افغانستان ميں امن و امن كي بحالي كے لئے منعقد كي جارہي ہے.



1*271**


ہميں اس ٹوئٹر لينك پر فالو كيجئے. IrnaUrdu@