سنیئر نائب ایرانی صدر کا علاقائی اور بین الاقوامی سلامتی کو مزید مضبوط بنانے پر زور

تہران، 2 دسمبر، ارنا - سنیئر نائب ایرانی صدر نے علاقائی اور بین الاقوامی سلامتی و استحکام کو مزید مضبوط بنانے کے لیے ایران کی مکمل آمادگی کا اظہار کیا.

يہ بات 'اسحاق جہانگيري' نے جمعہ كے روز روسي شہر سوچي ميں شنگھائي تعاون تنظيم(SCO) كے وزرائے اعظم كے 16 ويں سربراہي اجلاس كے موقع پر گفتگو كرتےہوئے كہي.

جہانگيري نے علاقائي اور بين الاقوامي سلامتي اور استحكام پر دلچسبي ركھنے والے ممالك كے درميان باہمي تعاون كو فروغ دينے كي ضرورت پر زور ديتے ہوئے كہا كہ ايران اس حوالے سے شنگھائي تعاون تنظيم كے تمام ركن ممالك كے ساتھ باہمي تعاون كا خواہاں ہے.

انہوں نے ايران كي خصوصي جيوپوليٹك پوزيشن كے ساتھ ساتھ ايران كے وسيع قدرتي اور انساني وسائل كو عالمي اور اسلامي تہذيب كا ايك اہم حصہ قرار ديتے ہوئے كہا كہ ايران دنيا كے مختلف ممالك اور اقوام كے درميان باہمي امن، استحكام، ترقي، بھائے چارہ ، علاقائي سالميت اور مذاكرات كا احترام كر رہا ہے.

انہوں نے بتايا كہ ايران اس تنظيم كي پوزيشن كي ترقي، باہمي امن بقائے كے قيام ، دہشتگردي، تشدد اور انتہا پسندي كے بغير ايك نئي دنيا كي تخليق كے ليے اس تنظيم كے ساتھ باہمي تعاون كے ليے آمادہ ہے.

ايراني سنيئر نائب صدر نے اس اجلاس سے پہلے روسي وزير اعظم 'دمتري ميدوي دوف' كے ساتھ ايك ملاقات كے دوران سياسي، اقتصادي، ثقافتي ، علاقا‏ئي اور بين الاقوامي شعبوں ميں تہران اور ماسكو كے درميان بڑھتے ہوئے تعلقات كا حوالہ ديتے ہوئے كہا كہ دہشتگردي سے نمٹنے ميں ايران اور روس كے درميان باہمي تعاون، ايك كامياب ماڈل ہے.

انہوں نے گزشتہ ہفتے ميں سوچي ميں ايران ، تركي اور روس كي سہ فريقي نشست كا حوالہ ديتے ہوئے كہا كہ اميد ہے كہ اس نشست كے مذاكرات كا نتيجہ علاقائي اقوام كے ليے فائدہ مند ہو گا.

انہوں نے جوہري معاہدے كے بعد دونوں ممالك كے درميان باہمي بينكاري تعلقات ميں بہتري آنے كا حوالہ ديتے ہوئے اس اميد كا اظہار كيا كہ ہم دونوں ممالك كے درميان باہمي تجارتي تبادلوں كو كرنسي كے ذريعہ انجام كر سكيں گے ہرچند دونوں ممالك اس مسئلے كے حل پر غور كر رہے ہيں.

اس موقع ميں روسي وزير اعظم نے دونوں ممالك كے درميان كثير الجھتي تعلقات كو بڑھانے كي ضرورت پر زور ديتے ہوئے كہا كہ روسي تيل كمپينياں ايران ميں سرمايہ كاري پر دلچسبي ركھتي ہيں.

انہوں نے كہا كہ دونوں ممالك كے درميان تمام شعبوں سميت دوائين كي پيداور كے شعبے ميں باہمي تعاون كي توسيع ايران اور روس كے دوطرفہ اقتصادي تعلقات كو مزيد فروغ دے سكتي ہے.

انہوں نے كہا كہ روسي كي جانب سے شنگھائي تعاون تنظيم ميں ايران كي شموليت كے ليے كوئي ركاوٹ نہيں ہے.

جہانگيري نے اقوام متحدہ كے ڈپٹي سيكرٹري جنرل اور ايشيا پيسفك كےاقتصادي اور سماجي كميشن كے ايگزيكٹو سيكريٹري 'شمشاد اختر' كے ساتھ ايك ملاقات كے دوران كہا كہ ايران، پائيدار ترقي كے ليے اس كميشن كے اقدامات كي حمايت كر رہا ہے اور پائيدار ترقي كے قيام كے ليے اس كميشن كے مشاورتوں اور تجربات سے فائدہ اٹھانے پر آمادہ ہے.

اس اجلاس كے موقع پر ايراني سنيئر نائب صدر نے بيلاروسي وزير اعظم 'آندرے كوبيكوف' كے ساتھ ملاقات كرتے ہوئے اور ايران كے ساتھ اقتصادي، سياسي كے شعبوں ميں باہمي تعاون كو فروغ دينے پر زور ديا.

جہانگيري نے ايران اور بيلاروس كے مابين بينكي تعلقات كو مزيد بہتر بنانے كي ضرورت پر زور ديا.

تفصيلات كے مطابق، اس اجلاس ميں چين، روس، قازقستان، كرغزستان، تاجكستان، ازبكستان، ايران، منگوليا، پاكستان، بھارت، افغانستان، بيلاروس، بھارت اور پاكستان كےنمائندوں شريك تھے

اسحاق جہانگيري شنگھائي تعاون تنظيم (SCO) كے وزرائے اعظم كے 16 ويں سربراہي اجلاس كي شركت كے ليے جمعرات كے روز روسي كے شہر سوچي پہنچ گئے

شنگھائي تعاون تنظيم 2001 ميں باہمي سيكورٹي، اقتصادي اور ثقافتي تعلقات كي توسيع كے مقصد سے چين، روس، قازقستان، كرغستان، تاجكستان اور ازبكستان كے ليڈروں كے ذريعے قائم ہوا اور اس كے اصلي باني چين اور روس ہيں.

**9410

ہميں اس ٹوئٹر لينك پر فالو كيجئے. IrnaUrdu@