امریکہ اعتراف کرچکا ہے، وہ ایران کا عسکری مقابلہ نہیں کرسکتا: جنرل باقری

زاہدان - ارنا - اسلامی جمہوریہ ایران کی مسلح افواج کے سربراہ نے کہا ہے کہ امریکہ بارہا اس بات کا اعتراف کرچکا ہے کہ وہ ایران کے خلاف عسکری مقابلہ کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا.

یہ بات میجر جنرل 'محمد باقری' نے پیر کے روز ایران کے سرحدی صوبے سیستان و بلوچستان کے دارالحکومت زاہدان میں عسکری کمانڈروں، مقامی سیکورٹی اور قبائلی عمادین کی موجودگی میں ایک سمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہی.

اس موقع پر انہوں نے امرکہ کے عسکری حکام نے کئی بار اس بات کا اعتراف کرچکے ہیں کہ اگر کسی بھی دن اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف جنگ کا آغاز کرے ھا تو اس کو سنگین شکست ملے گی.

انہوں نے کہا کہ عالمی سامراج بالخصوص امریکہ ایران میں اسلامی جمہوریہ کے نظام کو نقصان پہنچانے کی کسی بھی کوشش سے دریغ نہیں کریں گے.

جنرل باقری نے کہا کہ جہاں امریکہ ہماری سامنے اپنی بے بسی کا اعتراف کرتا ہے تو یہاں ایک ملک کے نابالغ ولیعہد کی ہرزہ سرائی ہے کہ ان کے خیال میں جنگوں اور بدامنیوں کا رخ ایران کی طرف کرنا چاہئے.

انہوں نے کہا کہ عالمی سامراجی قوتوں کے حواری بشمول ناجائز صہیونی ریاست کا خیال ہے کہ وہ خطے میں چند حقیر عناصر پر مشتمل ایک گروپ کی تشکیل دے کر اسلامی جمہوریہ ایران کی طاقت اور بالادستی کو نقصان پہنچا سکتے ہیں.

میجر جنرل محمد باقری نے مزید کہا کہ انقلاب عمل نے ایرانی قوم کو مستقل اور آزادی دی اور آج شہیدا کے خون کی بدولت اسلامی جمہوریہ ایران میں بسنے والے غیرتمند قوم اپنے ملک اور نظام کو بغیر کسی دباؤ اور دہمکیوں سے چلارہی ہے.

انہوں نے جنوب مشرقی صوبے سیاستان و بلوچستان میں قیام امن و استحکام کے حوالے سے قبایلی عمائدین، رضاکارانہ فورسز، مقامی انتظامیہ اور پولیس کے کردار کی اہمیت پر زور دیا.

ایرانی مسلح افواج کے سربراہ نے کہا کہ آج صوبے میں مختلف ترقیاتی منصوبوں کا اجرا کردیا گیا ہے جن پر نہایت امن و سلامتی کے ساتھ کام جاری ہے.

انہوں نے خطی کی صورتحال بالخصوص عراق اور شام کے حالیہ حالات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ داعش کے دہشتگرد نہ صرف اہل تشیع کا بے رحمانہ قتل کیا بلکہ انہوں ںے اہل سنت مسلمانوں پر بھی کوئی رحم و کرم نہیں کیا.

جنرل باقری نے کہا کہ فلسطین کا پرچم بلند کرنا اور القدس کی حمایت جاری رکھنا اسلامی جمہوریہ ایران کے لئے بہت فخر ہے اور ہم ہرگز عالمی سامراجی قوتوں اور ناجائز صہیونی ریاست کی سازشیں اور ان کی انسانیت سوز کاروائیوں کو نہیں بھول سکتے.

٢٧٤**