برطانیہ اور امارات میں ایران کے پٹرولیم صنعت سے متعلق منجمد سازوسامان کی واپسی

تہران - ارنا - جوہری معاہدے کے بعد برطانیہ اور متحدہ عرب امارات میں اسلامی جمہوریہ ایران کے پیٹرولیم صنعت سے متعلق منجمد ہونے والے ساز و سامان بشمول ٹربائیینز آزاد ہوگئے.

یہ بات ایران کی تیل پائپ لائن اور ٹیلی کمیونیکیشن کمپنی کے ڈائریکٹر 'عباس علی جعفری نسب' نے پیر کے روز ارنا کے نمائندے کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہی.

جعفری نسب نے تیل کی صنعت میں جوہری معاہدے کی کامیابیاں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جوہری معاہدے کے نفاذ اور پابندیوں کے خاتمے کے بعد بین الاقوامی کمپنیوں کے ساتھ مواصلات اور بات چیت کی سہولیات فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ ملک میں آنے والے غیر ملکی وفود میں اضافہ ہوگیا.

انہوں نے کہا کہ ہم موجودہ صورتحال میں مختلف شعبوں سمیت ٹربائینز اور تیل مصنوعات کے تبادلے کے میدان میں یورپی کمپنیوں کے ساتھ باہمی تعاون کر رہے ہیں.

انہوں نے بتایا کہ جوہری معاہدے کے نفاذ کے بعد پیدا ہونے والے مختلف مواقع کے بارے میں کہا کہ ایران پر عائد پابندیوں اٹھانے کے بعد نئی ٹیکنالوجی کی منتقلی کی سہولیات فراہم کیا گیا ہے جسے پیداوار میں اضافہ اور اخراجات میں کمی آئے گی.

انہوں نے کہا کہ جوہری معاہدے کے نفاذ نے گزشتہ کی کمزوریاں کی جبران اور تیل کی صنعت کے شعبے میں نئی ٹیکنالوجی کو اپنی طرف متوجہ کرنے کے لئے ایک اچہا مواقع فراہم کیا.

جعفری نسب نے کہا کہ جوہری معاہدے کے بعد روان سال 3 جولائی کو فرانس کی تیل کمپنی'ٹوٹل' کی قیادت میں ایران کی قومی تیل کمپنی اور بین الاقوامی کنسورشیم کے درمیان ایران کی جنوبی پارس گیس فیلڈ کے فیز 11 کے فروغ کے لیے پہلے نئے تیل معاہدے پر دستخط کئے گئے.

تفصیلات کے مطابق، اس معاہدے کی شرح 4.8 ارب ڈالر ہے جس کے تحت جنوبی پارس گیس فیلڈ کی پیداوار کی شرح میں روزانہ 64 ملین کیوبک میٹر گیس اضافہ دیکھنے میں آئے گی.

9410*274**