چابہار بندرگاہ وسطی ایشیا اور افغانستان کیلئے سنہری تجارتی اور ٹرانزٹ گیٹ وے

چابہار - ارنا - ایران کے مشرقی سواحل اور شمالی بحر ہند میں واقع چابہار بندرگاہ کو علاقائی اور بین الاقوامی ٹرانسپورٹیشن کے فروغ کے لئے اہم پوزیشن رکھتی ہے جبکہ یہ بندرگاہ افغانستان اور وسطی ایشیائی ریاستوں کے لئے ایک سنہری تجارتی اور ٹرانزٹ گیت وے کا کردار ادا کرسکتی ہے.

اسلامی جمہوریہ ایران کے جنوب مشرقی صوبے سیستان و بلوچستان کی پورٹس اور میری ٹائم اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل کا کہنا ہے کہ چابہار بندرگاہ شمالی بحر ہند اور مکران سواحل کے قریب ہونے کی وجہ سے افغانستان اور وسطی ایشیائی ممالک کے درمیان ٹرانزٹ ٹریڈ کے لئے راہ ہموار ہوگی.

یہ بات 'بہروز آقایی' نے پیر کے روز ارنا کے نمائندے کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہی.

اس موقع پر انہوں نے کہا کہ علاقائی اور عالمی شپنگ کمپنیوں بالخصوص سی آئی ایس تنظیم کے ممالک، وسط ایشیائی ممالک اور افغانستان چابہار بندرگاہ کی موجودہ بنیادی دھانچے کی وجہ سے سرمایہ کاری کے لئے پرعزم ہیں.

آقایی نے کہا کہ چابہار، زاہدان اور سرخس کے ریلوے کی تکمیل، ایرانشہر اور چابہار کے گیس پائپ لائن، مکران کی پیٹروکیمیکل کی ترقی، سٹیل کی صنعت کی تخلیق، چابہار بین الاقوامی ائیرپورٹ کا قیام اور ہمسایہ ممالک سمیت عمان کی صحار اور پاکستان کی گوادر بندرگاہوں کی ترقی ملکی اور غیرملکی سرمایہ کاروں کو راغب کرنا، تجارت اور نقل و حمل میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے.

انہوں نے کہا کہ چابہار بندرگاہ افغانستان کے قریب ہے اسی لئے اس ملک کو اقیانوسی پانیوں کو منسلک اور دنیا بھر میں معدنیات، زراعتی مصنوعات اور پھل کی برآمد کرسکتا ہے.

تفصیلات کے مطابق چابہار بندرگاہ میں 'شہید بہشتی اور کلانتری' بندرگاہیں 34 سے اب تک تیل اور غیرتیل مصنوعات کی نقل و حمل کے حوالے سے سرگرم عمل اور شہید بہشتی بندرگاہ سالانہ 20.5 ٹن لوڈنگ اور مال کی اترائی کی صلاحیت رکھتا ہے.

چابہار بندرگاہ علاقائی اقتصادی اعلی پوزیشن پہنچنے کے لئے ہرگز پائیدار ترقی اور سیکورٹی مسائل اور ماحولیاتی مسائل کو نظر انداز نہیں کرے گا.

9393*274**