ایرانی حجاج کی سلامتی، وقار اور عزت کو محفوظ کرنا ناگزیر ہے: آیت اللہ خامنہ ای

تہران - ارنا - قائد اسلامی انقلاب نے اس بات پر زور دیا ہے کہ ہم ہرگز 2015 کے سانحہ منی کے افسوسناک واقعے کو فراموش نہیں کریں گے اور سعودی عرب کو تمام حجاج بالخصوص ایرانی حجاج کی سلامتی، وقار اور عزت کو محفوظ کرنا چاہیئے.

ان خيالات كا اظہار آيت اللہ العظمي 'سيد علي خامنہ اي' نے آج بروز اتوار رواں سال حج كے امور كے بعض حكام اور حجاج كرام كے ساتھ ايك ملاقات ميں خطاب كرتے ہوئے كيا.

ايراني سپريم ليڈر نے فرمايا كہ حج كرنا اسلامي امت كے موقف اور خيال كے اظہار كے لئے ايك سنہري موقع ہے كيونكہ اس كے تمام لمحات كے ذريعہ اللہ تعالي كے ساتھ روحاني تعلق مضبوط كرسكتے ہيں.

آيت اللہ خامنہ اي نے حج كي سماجي منفرد صلاحيت كي طرف اشارہ كرتے ہوئے بتايا كہ حج كرنا اسلامي امت كي اتحاد، طاقت اور عظمت كي علامت ہے اور اس كے ذريعہ مختلف ممالك كے حجاج ايك دوسرے كے ساتھ ملاقات اور اسلامي دنيا كي پوزيشن سے واقف ہوتے ہيں.

انہوں نے باني اسلامي انقلاب 'امام خميني (رح)' كي ہدايات كے مطابق مشركوں سے نفرت كے حوالے سے فرمايا كہ مسجد الاقصي اور بيت القدس كے حاليہ واقعات كي وجہ سے ناجائز صہيوني رياست كے وحشيانہ اقدامات سے نفرت كرني چاہيئے.

انہوں نے اس بات پر زور ديا كہ مسئلہ فلسطين ہرگز فراموش نہيں كيا جائے گا اور يہ اسلامي دنيا كا اصلي مسئلہ ہے اسي لئے اسلامي ممالك كي قوموں كو مكہ مكرمہ، مدينہ منورہ، عرفات اور مني ميں فلسطيني مظلوم عوام، مسجد الاقصي، اسلامي ممالك اور علاقے ميں امريكہ كي ناپاك موجودگي اور تكفيري دہشتگرد گروپوں كي تشكيل كے حوالے سے اپنے موقف كا اعلان كرنا چاہيئے اور امريكہ كي برائي سب دہشتگرد گروپوں سے زيادہ ہے.

قائد اسلامي انقلاب نے فرمايا كہ 2015 كے سانحہ مني كے افسوس ناك واقعہ ميں سينكڑوں ايراني اور ديگر ممالك كے حجاج كرام شھيد ہوئے تھے اسي لئے رواں سال كے حج ميں حجاج كرام كے وقار، عزت اور سيكورٹي كے تحفظ نہايت اہم ہے.

رہبر معظم نے زائرين كے آرام اور امن كي اہميت كا حوالہ ديتے ہوئے كہا كہ امت اسلامي كے درميان باہمي اتحاد كي ضرورت لازمي ہے اور دشمنوں مسلمانوں كے درميان تفرقہ ڈالنے كے لئے مختلف سازشيں كرتے ہيں.

9393*271**