امريكہ كا ايران مخالف نيا قانون اس ملك كي دشمني كا تسلسل ہے: عراقچي

تہران - ارنا - نائب ايراني وزير خارجہ برائے قانوني اور بين الاقوامي امور نے كہا ہے كہ جوہري مذاكرات سے اسلامي جمہوريہ ايران اور امريكہ كے درميان دوستانہ تعلقات قائم كرنے كي توقع نہيں اور امريكہ كا ايران مخالف نيا قانون اس ملك كي دشمني كا تسلسل ہے.

يہ بات ايراني جوہري مذاكراتي ٹيم كے ركن 'سيد عباس عراقچي' نے ہفتہ كي رات ايراني ٹي وي كے ساتھ گفتگو كے دوران امريكي كانگريس كے حاليہ اقدام پر اپنے ردعمل كا اظہار كرتے ہوئے كہي.

اس موقع پر انہوں نے كہا كہ امريكہ كے ايران مخالف نئے اقدامات اس ملك كي دشمني كے تسلسل كي علامت ہے اور ايراني سپريم ليڈر كي ہدايات كي بنا پر جوہري معاہدے كے ساتھ امريكہ اور ايران كے درميان دشمني كا خاتمے كي توقع نہيں جارہا تھا.

عراقچي نے كہا كہ جوہري معاہدے اسلامي جمہوريہ ايران، يورپي يونين كے چھ ممالك، اقوام متحدہ كي سلامتي كونسل اور عالمي برادري كي جانب سے جائزہ لے رہا ہے اور امريكہ كے ساتھ دشمني كي كمي آنا متوقع نہيں ہونا چاہيئے.

انہوں نے اس بات پر زور ديا كہ ہم امريكہ كي حاليہ دھمكيوں اور پابنديوں پر سنجيدہ ردعمل كا اظہار كريں گے اور گزشتہ 38 سال سے اب تك اس ملك كي سامراجي پاليسيوں كے خلاف كھڑے ہيں اور يہ ہمارے ملك كي طاقت ظاہر كرتي ہے.

نائب ايراني وزير خارجہ برائے قانوني اور بين الاقوامي امور نے كہا كہ جوہري معاہدے كے بعد خطے اور پوري دنيا ميں اسلامي جمہوريہ ايران كي طاقت ميں اضافہ ہوا ہے اسي لئے امريكي كانگريس ايران مخالف نئے اقدامات انجام دے رہي ہے.

انہوں نے مزيد كہا كہ ايران كي عالمي تعميري كردار كي بحالي، اقتصادي صلاحيتوں كي مضبوطي، بڑھتي ہوئي تيل كي فروخت، شپنگ اور ہوائي صنعت كو فروغ، افراط زر ميں كمي آنا جوہري معاہدے كے مثبت اثرات ميں سے ايك ہے.

انہوں نے كہا كہ ہمارے ملك نے اپني دفاعي صلاحيتوں اور طاقت كے ساتھ شامي شہر حلب اور عراقي شہر موصل كي آزادي كے لئے بھرپور كوششيں كي اور خطے ميں اپنے اتحاديوں كي حمايت كے ساتھ طاقتور ہو رہا ہے.

انہوں نے بتايا كہ امريكيوں ايراني ميزائل ٹيسٹ كے بہانہ اور ايران كے مفادات كے خاتمے كے لئے جوہري معاہدے كي خلاف ورزي چاہتے ہيں مگر ہم اپنے مفادات كي حفاظت تك اس معاہدے پر قائم ہيں ورنہ اس كے مطابق عمل نہيں كريں گے.

اعلي ايراني جوہري مذاكرات كار نے كہا كہ ہم امريكہ كي خلاف ورزي كے حوالے سے اپني رپورٹ پيش كركے اور نگران كميٹي كو اس سلسلے ميں فيصلہ كرنا چاہيئے اور امريكي صدر ٹرمپ كانگريس كي پابنديوں كو خاتمہ كرے كيونكہ كوئي پابندياں اس عالمي معاہدے پر قائم نہ رہنے كي علامت ہے.

سيد عباس عراقچي نے كہا كہ اگر جوہري پابنديوں كے خاتمے كے ساتھ بھي اسلامي جمہوريہ ايران كے مفادات خطرے ميں ڈالے تو يہ جوہري معاہدے كي خلاف ورزي ہے اور اس كے ساتھ مقابلہ كريں گے.

انہوں نے اس بات پر زور ديا كہ اگر ايراني معروف كمپنياں اور قومي مفادات كے خلاف نئي پابندياں عائد ہوئے تو ہم يقيني طور پر جوہري معاہدے كے مطابق عمل نہيں اور سنجيدہ اقدامات كريں گے.

انہوں نے بتايا كہ ايران اور فرانسيسي تيل كمپني ٹوٹل كے درميان طے پانے والے معاہدے يورپ اور ہمارے ملك كے درميان اقتصادي تعلقات كي بہتري كو ظاہر كرتي ہے.

ايراني عہديدار نے كہا كہ يورپ كي حمايت اور سلامتي كونسل كي قرار داد كي وجہ سے ٹرمپ اور امريكي كانگريس جوہري معاہدے كي تبديلي نہيں كرسكا اور عالمي ايٹمي توانائي ادارے كي رپورٹ ايران كي ديانتداري كي تصديق كرتا ہے.

انہوں نے كہا كہ ہم قومي اور دفاعي مسائل كے حوالے سے كسي ملك ميں مداخلت كي اجازت نہيں ديں گے اور ميزائل ٹيسٹ كا پروگرام ايك سائنسي كاميابي ہے.

انہوں نے ايران كي جانب سے جوہري معاہدے پر عملدرآمد كرنے كا حوالہ ديتے ہوئے كہا كہ اسلامي جمہوريہ ايران كے ميزائلوں جوہري ہتھياروں سے استعمال نہيں كرتے ہيں اور ايراني ميزائل ٹيسٹ جوہري معاہدے كي خلاف ورزي نہيں ہے.

نائب ايراني وزير خارجہ نے كہا كہ ہم اس بات پر زور دے رہے ہيں كہ قومي سلامتي كے حوالے سے كوئي ملك ميں مداخلت كي اجازت نہيں ديں گے اور ہمارے ميزائل ايران كي طاقت كي نشان ہے.

انہوں نے اس بات پر زور ديا كہ سپاہ پاسداران اسلامي انقلاب ہمارے ملك كي طاقت اور اقتدار كي علامت ہے اور ايران كي پاليسي سپاہ كي حمايت كرنا ہے اور سب جانتے ہيں كہ سپاہ رہبر معظم كي ہدايات اور ايراني قوم كي حمايت كے ذريعہ دشمنوں كي سازشوں كو ناكام اور داعش اور تكفيري دہشتگردوں سے مقابلہ كركے اسي لئے امريكہ واضح طور پر اس كے خلاف پابندياں عائد كررہا ہے.

انہوں نے كہا كہ ايراني وزارت خارجہ نے امريكہ كے ايران مخالف اقدامات كے جوابي ردعمل ميں پارلمينٹ كے منصوبہ كو منظور كيا ہے اور اسلامي جمہوريہ ايران امريكہ كا منہ توڑ جواب دے گا.

9393*271**