امریکی دھمکیوں کے مقابلے میں کبھی پیچھے نہیں ہٹے: نائب ایرانی صدر

تہران - ارنا - سنئیر نائب ایرانی صدر نے کہا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران نے امریکہ کی دھمکی آمیز محرکات کے مقابلے میں کبھی بھی پیچھے نہیں ہٹے بلکہ ہم نے ان اقدامات کا مناسب انداز میں جواب دیا ہے.

ان خیالات کا اظہار 'اسحاق جہانگیری' نے ہفتہ کے روز تہران میں حکومت اور نجی شعبوں کے درمیان باہمی مشاورت کے عنوان سے منعقدہ قومی کونسل کے اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے کیا.

اس موقع پر انہوں نے کہا کہ امریکہ کوشش کر رہا ہے کہ ایران کو تجارت اور کاروباری سرگرمیوں کے لئے ایک غیرمطمئن اور خطرناک ملک دیکھائے اور اقتصادی حلقے اور دنیا کی حکومتوں کو یہ باور کرائے کہ ایران کے ساتھ کاروبار نہ کریں ورنہ بڑی پابندیوں کو شکار ہوں گے.

اس موقع پر انہوں نے کہا کہ اللہ کا شکر ہے کہ اب تک امریکہ اسلامی جمہوریہ ایران کی بین الاقوامی پوزیشن کو خطرے میں نہیں ڈال سکتا ہے اور صدارتی انتخابات میں ہماری قوم کی عظیم موجودگی ملک کے باہمی اتحاد کی علامت ہے.

جہانگیری نے کہا کہ ہم ایک علاقاائی اور بین الاقوامی پیچیدہ صورتحال کا شکار ہیں اور بعض علاقائی ممالک اور ناجائز صہیونی ریاست انتہا پسند گروپوں کی حمایت کرکے اور ایران مخالف کاروائیوں میں اضافہ ہورہا ہے.

نائب ایرانی صدر نے کہا کہ امریکی کی نئی حکومت ایران مخالف اشتعال انگیز اقدامات کرکے اور علاقائی اور بین الاقوامی واقعات اس کی نشاندہی کرتا ہے.

انہوں نے کہا کہ امریکہ کے ایران مخالف اقدامات کا مقصد گروپ 5+1 اور اقوام متحدہ کے درمیان اسلامی جمہوریہ ایران پر جوہری معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام لگانا ہے جو اللہ تعالی کی مدد سے اب تک کامیاب نہیں ہوسکا.

انہوں نے بتایا کہ امریکہ روزگار اور اقتصادی سرگرمیوں کے لئے ہمارے ملک کو بدامن دیکھانا چاہتا ہے مگر ہم نے اعلی قومی سلامتی کونسل اور مسلح افواج کے درمیان اجلاس میں جوہری معاہدے کی منصوبہ بندی کرتے ہوئے اور رہبر معظم نے اس کی تصدیق کیا ہے.

انہوں نے مزید کہا کہ ایرانی صدر 'حسن روحانی' کی قیادت میں جوہری معاہدے پر ایک نگران کمیٹی قائم ہوا ہے جس کی ذمہ داری جوہری معاہدے کی خلاف ورزی کرنے والے فریق پر ردعمل کا اظہار کرنا ہے اور اسلامی جمہوریہ ایران امریکی کی دھمکیوں کو منہ توڑ جواب دے رہا ہے.

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ہمیں اپنی کوششوں اور باہمی اتحاد کے ساتھ امریکہ کے ایران مخالف اقدامات اور سازشوں کی ناکام اور ایران کی پرامن پوزیشن منظر عام پر لانا چاہیئے.

نائب ایرانی صدر نے کہا کہ اگر ہمارے ملک پرامن ہوئے تو سب ممالک ایران میں سرمایہ کاری کریں گے اور اس پر امن ماحول کی حفاظت ناگزیر ہے.

سنئیر جہانگیری نے کہا کہ علاقائی چیلینجوں کے حل کے سب سے بہترین طریقہ قومی اعتماد ہوسکتا جو ہمارے ملک میں موجود ہے اور ایسی علاقائی بدامن کی صورتحال میں اسلامی جمہوریہ ایران سب سے بڑا پرامن ملک اور نجی ، سرکاری شعبوں میں اقتصادی حکمت عملی کی پالیسیوں کے نفاذ ایک روشن مثال ہے.

انہوں نے کہا کہ ملکی اور غیرملکی فریقن کے لئے اچھے منصوبہ فراہم کی جاتی ہے اور ایران نقل و حمل، صنعت، پانی، بجلی اور دوسرے شعبوں میں مختلف منصوبے پیش کرے گا اور امریکہ کے بغیر یورپ اور ایشیا اس ملک کے ساتھ اقتصادی تعلقات قائم کرنے کے لئے پرعزم ہیں.

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پیچیدہ مسائل کے حل کے لئے نجی شعبوں ایرانی حکومت کو مدد کرسکتا اور بے روزگاری کے مسائل کے حل کے واحد راستہ پیداواری اور سرمایہ کاری ہے.

9393*274**