نئی ایرانی کابینہ کے ممبران کو سپریم لیڈر کی نظر کے مطابق انتخاب کرنے کی افواہوں کی تردید

تہران - ارنا - ایرانی سپریم لیڈر حضرت آیت اللہ 'سید علی خامنہ ای' کے دفتر نے ایسی افواہوں کو سختی سے مسترد کردیا ہے جس میں دعوی کیا گیا ہے کہ نئے ایرانی صدر کی کابینہ میں تمام ممبران کو قائد انقلاب کی نظر کے مطابق انتخابات کیا جاتا ہے.

قائد اسلامی انقلاب کے دفتر نے ایک بیان میں کہا کہ نئے صدر کی تقریب حلف برداری تک 10 دن باقی رہ گئے جس کے بعد جناب صدر مملکت اپنی کابینہ کے ممبران کے لئے نامزد شخصیات کے نام پیش کریں گے.

اس بیان کے مطابق، گزشتہ دو ہفتوں سے افواہیں سامنت آرہی ہیں جو زیادہ تر بیرون ملک کے میڈیا اچھال رہا ہے اور یہ من گھڑت دعوے کو ہوا دینے کی کوشش کی جارہی ہے کہ سپریم لیڈر کی براہ راست ہدایت کے تحت نئی کابینہ کے ممبران کو انتخاب کیا جاتا ہے.

سپریم لیڈر کے آفس نے مزید کہا کہ ایسی تمام افواہیں من گھڑت اور مخصوص مقاصد کےلئے ہیں جبکہ قائد اسلامی انقلاب نے حکومت کی حمایت کی ہے اور یہی مؤقف سابقہ حکومتوں کے ساتھ بھی رہا ہے.

اس بیان میں مزید کہا گیا کہ ملکی آئین کے مطابق، نئی کابینہ میں وزرائے دفاع، خارجہ اور انٹیلی جنس کے لئے سپریم لیڈر کے ساتھ مشاورت کی جاتی ہے جو آئین کے تحت سپریم لیڈر اس کا حق حاصل ہے.

لہذا نئی کابینہ کے حوالے سے افواہوں میں کوئی صدارت نہیں اور اگر قائد انقلاب کو نئی کابینہ کی فکر ہیں تو اس کا مقصد صرف اور صرف عوامی مشکلات کو حل کرنے کے لئے صبح شام کام کرنا ہے.

یاد رہے کہ 19 مئی کو ایرنا میں ہونے والے 12ویں صدارتی انتخابات کے حتمی نتائج کے مطابق ڈاکٹر 'حسن روحانی' 57 فیصد ووٹ لے کر کامیاب امیدوار قرار پائے ہیں.

حسن روحانی 23 ملین 5 لاکھ 49 ہزار 616 ووٹ کے ساتھ پہلے نمبر پر ہیں اور انہوں نے کل ووٹوں میں سے 57 فیصد ووٹ حاصل کرکے کامیابی اپنے نام کرلی ہے.

ایرانی مجلس (پارلیمنٹ) نے اعلان کیا کہ کہ 5 اگست کو پارلیمنٹ کے خصوصی سیشن کا انعقاد کیا جائے گا جس میں ایران کے 12ویں صدر جناب ڈاکٹر حسن روحانی کی تقریب حلف برداری ہوگی.

مجلس میں صدارتی حلف برداری سے پہلے ایران کے سپریم لیڈر حضرت آیت اللہ العظمی 'سید علی خامنہ ای' کی جانب سے ایران کے منتخب صدر کو باضابطہ صدارتی حکم نامہ پیش کرنے کی تقریب بھی منعقد ہوگی اور توقع کی جاتی ہے کہ یہ تقریب یکم یا دو اگست کو ہوگی.

274**