امریکی پابندیوں کا علاج قومی خودانحصاری اور  مزاحمتی اقتصادی پالیسی ہے: تہران امام جمعہ

تہران - ارنا - ایرانی دارالحکومت کے امام جمعہ نے امریکہ کی جانب سے ایران پر نئی پابندیاں عائد کرنے کے حوالے سے کہا ہے کہ ان پابندیوں کا اصل علاج اندرونی لحاظ سے خودانحصاری اور مزاحمتی اقتصاد پالیسی پر عمل کرنا ہے.

ان خیالات کا اظہار علامہ 'کاظم صدیقی' نے آج تہران یونیورسٹی میں نماز جمعہ کے ایک عظیم اجتماع میں نمازیوں سے خطاب کرتے ہوئے کیا.

اس موقع پر انہوں نے کہا کہ آج سب سے اہم مسئلہ ایران مخالف امریکہ کی نئی پابندیاں ہیں، مگر یہ پابندیاں گزشتہ پابندیوں کی توثیق نہیں بلکہ نئی ہیں اور خود امریکیوں نے بھی کہا کہ ان میں سے بعض پابندیاں نئی ہیں.

انہوں نے کہا کہ ایران کے تمام حکام بشمو سیاسی، حکومتی، عدالتی اور گارڈین کونسل نے اس مؤقف کا مشترکہ طور پر اعلان کیا ہے کہ نئی امریکی پابندیاں ایران جوہری معاہدے کی روح کی خلاف ورزی ہے.

تہران کے امام جمعہ نے بتایا کہ جیسا کہ سپریم لیڈر نے جوہری مذاکرات کے شروع دن سے ہی فرمایا تھا کہ ہم امریکہ پر بھروسہ نہیں کرسکتے اور ان پر بھروسہ نہ کیا جائے.

انہوں نے مزید کہا کہ قائد انقلاب نے اس وقت کچھ شرائط بتائے تھے اور اگر ان پر عمل ہوتا تو آج ایسی مشکلات کا سامنا نہ کرتے.

علامہ کاظم صدیقی نے کہا کہ امریکہ ذاتی طور پر دین، اسلام اور اسلامی انقلاب کا دشمن ہے اور وہ ہرگز ان سے دوستی نہیں کرسکتا، امریکہ ہرگز ہم سے راضی نہیں ہوسکتا جب تک ہم ان کے نوکر نہ بنیں یا ان کے سامنے سر نہ جھکائیں.

انہوں نے ایران کی نئی انتظامیہ اور کابینہ کے حوالے سے بتایا کہ ہم جناب صدر مملکت سے درخواست کرتے ہیں کہ کابینہ کی تقرری کے حوالے سے سیاسی، ذاتی یا کسی مخصوص گروپ کے مفادات سے پہلے اس بات کا ضرور خیال رکھیں کہ عزت اللہ تعالی کی دی ہوئی چیز ہے اور وہ اللہ کے سوا کسی اور کے سامنے جوابدہ نہیں ہوں گے.

تہران کے امام جمعہ نے اس بات پر زور دیا کہ جن لوگوں نے وطن عزیز کو جنگ کے دوران محفوظ بنایا وہ یقینا آج اقتصادی جنگ میں بھی اپنا کردار ادا کرسکتے ہیں اور ایسے مسائل کے حل کے لئے مدد فراہم کرسکتے ہیں.

274**