امام خمینی (رح) خلائی سٹیشن ملکی ایرو اسپیس صنعت کی ضروریات پورا کرنے میں اہم قرار

تہران - ارنا - اسلامی جمہوریہ ایران میں گزشتہ روز امام خمینی (رح) سے منسوب نیا قومی خلائی سٹیشن ملک کی ایرو اسپیس صنعت کی اگلے 10 سال کی ضروریات کو پورا کرنے کی قابلیت رکھتا ہے.

یہ بات صاایران خلائی گروپ کے نائب سربراہ 'مہدی نصیری' نے گزشتہ روز ارنا کے نمائندے کے ساتھ خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہی.

اس موقع پر انہوں نے کہا کہ ایران کے خلائی سائنسدان نے نئے قومی خلائی سٹیشن کے ذریعے اپنی عسکری قابلیت کو تجارتی سرگرمیوں میں استعمال کرنے کے لئے کامیابی حاصل کرلی ہے.

انہوں نے امام خمینی (رح) سے منسوب قومی خلائی مرکز کے افتتاح پر سپریم لیڈر حضرت آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای، صدر مملکت اور ملک کے خلائی سائنسدانوں کو مبارکباد پیش کی.

انہوں نے مزید کہا کہ نئے قومی خلائی مرکز کے ڈیزائن اور تعمیر کے لئے محکمہ دفاع اور مسلح افواج کے سائنسدانوں نے مرکزی کردار ادا کیا.

مہدی نصیری نے کہا کہ اس خلائی مرکز کی ایک اعلی صلاحیت یہ ہے کہ یہاں سے سیاروں کو زمین کے نزدیکی مدار میں بھیجا جاسکتا ہے اور اس کے ذریعے ہم ماحولیات، جغرافیائی پوزیشن، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور سیٹلائٹ ٹیلی کمیونیکیشن کے شعبوں میں اچھی خدمات فراہم کرسکتے ہیں.

انہوں نے کہا کہ امام خمینی (رح) قومی خلائی مرکز جنوب مغربی ایشیا کے خطے میں اپنی نوعیت کا پہلا مرکز ہے جبکہ ایرانی سائنسدان نے بین الاقوامی ظالمانہ پابندیوں کے باوجود اس مرکز کی تعمیر کے لئے دنیا کی جدیدترین ٹیکنالوجی کا استعمال کیا ہے.

انہوں نے کہا کہ اس مرکز کی تعمیر 2012 سے شروع کی گئی اور اس کا افتتاح ملک کے خلائی شعبے میں ایک سنگ میل ہے.

تفصیلات کے مطابق، امام خمینی (رح) خلائی سٹیشن، ایران کا پہلا خلائی مرکز ہے جہاں سے سیاروں کے خلاء میں بھیجنے اور انھیں کنٹرول کیا جاتا ہے.

اس مرکز کی تعمیر کے لئے دنیا کی جدیدترین ٹیکنالوجی کا استعمال کیا گیا ہے اور سیٹلائٹ نیویگیشن نظام بالخصوص ایل ای او مدار کے حوالے سے تمام ضروریات ملکی وسائل سے تیار کی گئیں ہیں.

سیمرغ شٹل 250 کلوگرام وزنی سیارے کو خلاء میں لے جانے کی صلاحیت رکھتی ہے اور وہ سیارہ زمین سے پانچ سو کلومیٹر دوری کے فاصلے پر رہ سکتا ہے.

274**