ایران،روس کو جوہری منصوبوں کے نفاذ کے عمل کو تیز کرنا چاہیے: ایرانی اہلکار

ماسکو - ارنا - ایران کی جوہری توانائی تنظیم کے ترجمان نے کہا ہے کہ ایران اور روس کے درمیان جوہری منصوبوں کے نفاذ کے حوالے سے تعاون بڑھانے کے لئے اچھا ماحول موجود ہے.

يہ بات بہروز كمالوندي نے ارنا كے نمائندے كو خصوصي انٹرويو ديتے ہوئے كہي.

انہوں نے ماسكو ميں روس كے مختلف جوہري توانائي اداروں كے اعلي عہديداروں سے ملاقات كا حوالہ ديتے ہوئے كہا ہے كہ ايران اور روس كے درميان جوہري تعاون كي توسيع كے لئے اب پہلے سے زيادہ مواقع موجود ہيں.

ايران اور روس كے درميان اب تك كے ہونے والے جوہري توانائي كے تعاون كي اہميت كا ذكر كرتے ہوئے انہوں نے كہا كہ روس بوشہر جوہري بجلي گھر كے يونٹ دو اور يونٹ تين كي توسيع كے لئے ايران كو مدد فراہم كرے گا.

انہوں نے كہا كہ اس حوالے سے روسي ماہرين نے اپني فائنل رپورٹ تكميل كي ہيں اور پروجيكٹ كو اپنے اھداف تك پہنچانے كے لئے دونوں ممالك كے درميان تعاون جاري ہے.

انہوں نے كہا كہ بوشہر جوہري بجلي گھر كي يونٹ ايك امريكہ اور مغربي ممالك كي پابنديوں كي ركاوٹوں كي وجہ سے اپني معينہ مدت ميں تكميل نہ ہوسكي.

انہوں نے كہا كہ مشتركہ جوہري تعاون كے معاہدے كے مطابق ايران اپني صنعتي اور علمي سرگرميوں كے لئے غير خالص يورونيم آكسائڈ يعني يلو كيك روس سے حاصل كرسكتي ہے.

ايران نے جولائي 2015 ميں امريكا سميت فرانس ، برطانيہ ، جرمني ، روس اور چين يعني "5+1" گروپ كے ساتھ ايك نيوكليئر معاہدے پر دستخط كيے تھے جس كے تحت اسلامي جمہوريہ ايران اپنے پرامن جوہري سرگرميان جاري ركھنے كے لئے روس سميت ديگر ممالك سے مدد حاصل كرسكتے ہيں.

1*271**