ایران مخالف امریکی کانگریس کا بل جوہری معاہدے کی کھلی خلاف ورزی ہے: ایرانی اسپیکر

تہران - ارنا - ایرانی مجلس (پارلیمنٹ) کے اسپیکر نے کہا ہے کہ امریکی کانگریس کی جانب سے اسلامی جمہوریہ ایران اور روس کے خلاف نئی پابندیوں کے بل جوہری معاہدے کی کھلی خلاف ورزی ہے.

ان خیالات کا اظہار 'علی لاریجانی' نے بدھ کے روز ایران کے دورے پر آئے ہوئے لبنانی رکن پارلیمنٹ 'محمد رعد' کی قیادت میں پارلیمانی وفد کے ساتھ ایک ملاقات کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کیا.

انہوں نے کہا کہ ایران اور روس کے خلاف امریکہ کی نئی پابندیوں پر اگر غور کیا جائے تو واضح اور شفاف طور پر دیکھا جاسکتا ہے کہ ان پابندیوں کا مقصد مزاحمتی فرنٹ کے خلاف امریکہ کی دشمنی ہے.

اس موقع پر انہوں نے داعش دہشتگردوں کے قبضے سے لبنان کے عرسال خطے کی آزادی پر مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ ایسی کامیابیاں بہت ہی قابل قدر اور آج علاقے میں لبنان کی حزب اللہ تحریک کی پوزیشن بہت ہی واضح ہے.

لاریجانی نے بعض علاقائی ممالک کے اقدامات اور پالیسیوں کو اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ آج علاقے ایک خام پالیسی سوچ اور رویے کا شکار جو یہ ایک بڑا مسئلہ ہے مگر خوش قسمتی سے مزاحمتی فرنٹ کے استحکام کے ساتھ عراق اور شام میں دہشتگردوں ناکام ہو رہے ہیں.

ایرانی اسپیکر نے کہا کہ ایسی کامیابیوں کی وجہ سے امریکہ کے بعض علاقائی اتحادیوں لبنان کی حزب اللہ تحریک کے خلاف نئی پابندیاں عائد کرتے ہیں جو کوئی شک نہیں ہے کہ ایسے اقدام ان ممالک کے خود کے لئے ضرر رساں ہوجائے گا.

انہوں نے مزید کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران اور روس کے خلاف امریکی کانگریس کے گزشتہ روز کی نئی پابندیاں جوہری معاہدے کی کھلی خلاف ورزی ہے اور ایسے اقدام اس کی ثبوت ہے کہ امریکہ دہشتگردی بحران کا خاتمہ نہیں چاہتا.

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ہم مزاحمت کی تحریک کی حمایت اور دہشتگردوں سے مسلسل مقابلے کو جاری رکھیں گے کیونکہ مسلمانوں کی حمایت ایک اسلامی فرض ہے.

محمد رعد نے کہا کہ دشمنوں اور دہشتگردوں علاقے اور بین الاقوامی سطح پر تنازعات کا شکار اسی لئے ناکام ہو رہے ہیں اور خوش قسمتی سے مزاحمتی فرنٹ اپنی مزید طاقت کے ساتھ چیلنجوں سے مقابلہ کریں گے.

9393*274**