دفاعی اور موثر سفارت کاری کے ذریعے امریکی اقدامات کا مقابلہ کریں گے: رکن ایرانی مجلس

تہران - ارنا - سنئیر ایرانی رکن پارلیمنٹ نے حکومت اور مسلح افواج کے درمیان غلط فہمیاں پیدا کرنے والے کی ناکامی کا ذکر کرتے ہوئے کہا ہے کہ موثر دفاعی اور سفارت کاری کی حکمت عملی کے ذریعے سے امریکی پالیسیوں کا مقابلہ کریں گے.

یہ بات 'محمدرضا تابش' جو ایرانی پارلیمنٹ میں حکومت کے حمایتی اراکین کے گروپ کے نائب سربراہ ہیں، نے بدھ کے روز ارنا کے نمائندے کے ساتھ خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہی.

اس موقع پر انہوں نے صدر روحانی اور پاسداران انقلاب کے کمانڈروں کی حالیہ ملاقات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ریاستوں اداروں کے درمیان مضبوط اتحاد اور ہم آہنگی سے وطن عزیز کے دشمن ناکام ہوں گے.

اس موقع انہوں نے کہا کہ ایرانی صدر اعلی قومی سلامتی کونسل کے سربراہ ہیں اور ملک کی سیکورٹی اور دفاعی کے تمام فیصلوں ان کی قیادت اور رہبر معظم کی ہدایات کے ساتھ نفاذ کرتا ہے.

تابش نے کہا کہ ایرانی مسلح افواج سمیت پاسداران اسلامی انقلاب پائيدار قومی سلامتی کا اصلی عنصر ہے اور صدر مملکت اور مسلح افواج کے درمیان باہمی اتحاد دشمنوں کی تمام سازشوں کو ناکام بن سکتا ہے.

ایران کے صوبے یزد کے شہر اردکان کے نمائندے نے کہا کہ محمد رضا شاہ پہلوی امریکہ کے اتحادیوں میں سے ایک تھا اور انہوں نے خطے میں امریکی ذرائع کی حافظت کیا مگر اسلامی انقلاب کی کامیابی کے ساتھ امریکی مفادات خطرہ کا شکار ہے.

انہوں نے مزید کہا کہ ایرانی آئین کے مطابق ہماری حکومت تمام مسلمانوں اور مظلوم عوام کی حمایت کرکے اسی لئے امریکہ خطے میں ایران کی بڑی طاقت کو برداشت نہیں کرسکتا اور ایران کو کمزور کرنے کے لئے مختلف سازشیں کرتا ہے.

ایرانی رکن پارلیمنٹ نے کہا کہ امریکی نئی حکومت سابق حکومت کی طرح خطے میں اسلامی جمہوریہ ایران کی طاقت کی منظوری پر مجبور ہوگا اور وہ جانتے ہیں کہ آج دنیا میں دھمکی اور فوجی حملہ مسائل کے حل نہیں ہے.

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ سابق امریکی صدر اوباما نے بار بار کہا کہ ہم ایرانی حکومت کو تسلیم کرتے ہیں مگر ابھی صورتحال میں اس ملک کے نئے صدر ٹرمپ اس پالیسی کی کھلی خلاف ورزی کررہا ہے.

انہوں نے کہا کہ امریکیوں کو اسلامی جمہوریہ ایران اور علاقے کی حقیقتیں منظور کرنا چاہیئے اور اس مقصد حاصل کرنے کے لئے بہت ہی کوششوں کی ضرورت ہے.

انہوں نے کہا کہ ہمیں خطے میں اپنے تعمیری کردار کے ذریعہ سے ایرانی قومی مفادات کا دفاع اور ہراقدام سے مقابلہ کرنے کے لئے تیار ہونا چاہیئے.

محمدرضا تابش نے کہا کہ ہم نے امریکی کانگریس کے اقدامات سے مقابلہ کرنے کے لئے ایک ہنگامی پلان منظور کیا ہے اور ایران مخالف کوئی اقدام پر مناسب ردعمل کا اظہار کریں گے.

9393*274**