امریکی کانگریس کے اقدام کا سختی سے جواب دیں گے: اعلی ایرانی سفارتکار

تہران - ارنا - سنئیر ایرانی جوہری مذاکرات کار اور نائب وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ امریکی کانگریس کے حالیہ اشتعال انگیز اقدامات امریکی وعدوں کے برعکس ہیں تاہم اسلامی جمہوریہ ایران ان تمام اقدامات کا بھرپور اور مناسب انداز میں جوابی ردعمل دے گا.

یہ بات 'سید عباس عراقچی' نے بدھ کے روز تہران میں منعقدہ سائبر جرائم کی روک تھام کے حوالے سے کانفرنس کے موقع پر صحافیوں کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہی.

انہوں نے کہا کہ ایران، روس اور شمالی کوریا کے خلاف امریکی کانگریس کے حالیہ اقدامات کھلی دشمنی اور امریکی وعدوں کی خلاف ورزی ہیں.

انہوں نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران ایسے اقدامات کا سختی سے ردعمل دے گا.

عراقچی نے کہا کہ ایران نے ماضی میں بھی دشمنی پر مبنی ایسے اقدامات کا سامنا کیا ہے اور یہ کوئی نئی بات نہیں جس کو ہم سابقہ یا موجودہ امریکی حکومت کی خاص منصوبہ بندی سمجھیں.

انہوں نے کہا کہ امریکہ میں ایک ایسا قانون پاس ہونے جارہا ہے جو غیر جوہری معاملات پر پابندیاں عائد کرے گا مگر ہم سمجھتے ہیں کہ ایسے اقدامات سے جوہری معاہدے کے نفاذ کا عمل متاثر ہوگا.

سید عباس عراقچی نے مزید کہا کہ عالمی جوہری توانائی ادارے (IAEA) نے اب تک اپنی 7 رپورٹس میں ایران کی شفاف کارکردگی کی توثیق کی جس کی وجہ سے امریکی انتظامیہ بھی گزشتہ 6 مہینوں میں مجبور ہوگئی کہ اس بات کو تسلیم کرے کہ ایران، جوہری معاہدے کے حوالے سے اپنے وعدوں پر قائم ہے.

٢٧٤**