نظام کی تبدیلی ناممکن، امریکہ نے ماضی کی غلطیوں سے سبق نہیں سیکھا: ظریف

تہران - ارنا - ایران کے وزیر خارجہ نے ملکی نظام کی تبدیلی کو ناممکن قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایران ایسا ملک نہیں جو اپنی بقا کی خاطر امریکہ پر انحصار کرے بلکہ ہم امریکہ کے بغیر اپنا نظام چلاسکتے ہیں.

یہ بات 'محمد جواد ظریف' نے اپنے حالیہ نیو یارک کے دورے کے موقع پر امریکی خارجی تعلقات کونسل کی خصوصی نشست میں گفتگو کرتے ہوئے کہی. انہوں نے اس نشست میں شریک نامور شخصیات، ماہرین اور تجزیہ کاروں کے سوالوں کا جواب بھی دیا.

اس موقع پر انہوں نے علاقائی عدم استحکام کے حوالے سے کہا کہ غیرملکی طاقتوں کے مداخلت اور جارحانہ پالیسیاں علاقائی تنازعات کی وجہ اور انتہاپسندی کے پھیلنے کا باعث بنا ہے.

محمد جواد ظریف نے کہا کہ مشرق وسطی سمیت ہمسایہ ممالک ایک ناکامی کا شکار ہے اور جبکہ علاقائی قوم اپنی حکومتوں کو منظور نہیں کرکے اسلامی جمہوریہ ایران کی بہادر قوم نے دو پھچلے مہینے میں ایرانی صدارتی انتخابات میں بھرپور شرکت کی.

ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ انتہاپسند طاقتوں اور دہشتگردوں کی حمایت علاقائی مسائل کا حل نہیں کر سکے گا.

انہوں نے سعودیوں کے حالیہ بیانات اور ایرانی دارالحکومت تہران میں حالیہ دہشتگردی حملوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ سعودیوں دہشتگردی تنظیموں کی مدد کے ذریعہ اپنی دھمکیوں کا نفاذ کرکے اور وہ پاکستان میں سرگرم دہشتگردی تنظیم کی حمایت کرتے ہیں.

انہوں نے ایران میں دینی جمہوریت کو اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے ملک میں دینی جمہوریت جاری ہے اور سعودی عرب تہران کے حالیہ حملوں کا اصلی عنصر ہے مگر اسلامی جمہوریہ ایران دشمنوں کے خلاف جنگ لڑنے والے ممالک کی حمایت کرتا ہے.

انہوں نے یمن کی حمایت کے لئے ایران اور سعودی عرب کے درمیان ممکنہ جنگ کے حوالے سے کہا کہ یمن اور شام کے سلسے میں دونوں ممالک کے درمیان اختلاف رائے موجود ہے اور ہم اس تنازعات کے حل کے لئے تیار ہیں کیونکہ یمن میں کشیدگیوں کسی ملک کے لئے فائدہ مند نہیں ہے.

ظریف نے شام اور یمن کے بحران کے حل کے لئے اپنے اور ایرانی صدر 'حسن روحانی' کی چار فریقی تجاویز کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس تجاویز کے ذریعہ اسلامی جمہوریہ ایران اور سعودی عرب کے درمیان باہمی تعاون قائم ہوسکتا اور جنگ کی کوئی ضرورت نہیں ہے.

ایرانی وزارت خارجہ نے ایران کی جانب سے شام کی حمایت اور مغرب کی جانب سے ایران پر کیمیاوی ہتھیاروں کے استعمال کے دعوے کے سلسلے میں کہا کہ ایران کے بغیر تمام ممالک کیمیاوی ہتھیاروں سے استمعال کرکے اور آٹھ سالہ تحمیلی جنگ کے دوران عراق نے ہمارے ملک کے خلاف کیمیاوی ہتھیاروں سے استعمال کیا.

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ہم کیمیاوی ہتھیاروں سے استعمال کی مخالفت کرکے اور شام میں اس ں سے استعمال کا جائزہ لینا چاہیئے اور امریکی حکومت کی جانب سے شامی خان شیخون علاقے پر الزامات کی وجہ سے ایک تحقیقی وفد اس ملک بھیج جائے گا اور ہمارے رائے میں کیمیاوی ہتھیاروں سے استعمال ناقابل قبول ہے.

انہوں کہا کہ ہم جوہری معاہدے کے مطابق مکمل عمل کرتے ہیں اور عالمی ایٹمی توانائی ادارے نے اپنی چھ رپورٹ میں ایران کی دیانتداری کی تصدیق کی ہے مگر اس کے باوجود امریکہ اس عالمی معاہدے کی خلاف ورزی کرکے اور نئی پابندیوں کی تجدید کرتا ہے.

انہوں نے ایران کے خلاف انسانی حقوق کی پابندیوں کے حوالے سے کہا کہ انسانی حقوق کے مطابق دعوے کرنے والے ممالک اپنی قوم کو قتل عام کرتے ہیں اور امریکہ نے اپنی ماضی غلطیوں سے سبق نہیں سیکھا اور ایرانی نظام کی تبدیل ہرگز ممکن نہیں ہے.

ایرانی وزیر خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ گزشتہ 38 سال سے اب تک دشمن ہمارے ملک پر دباو ڈال رہا ہے مگر اس کے باوجود ہم بعض ممالک کے برعکس امریکہ پر انحصار نہیں کرتے ہیں.

٩٣٩٣*٢٧٤**