فلسطین کو ادویات اور امدادی ٹیمیں بھجینے کیلئے تیار ہیں: ایرانی سفارتکار

تہران - ارنا - ایرانی اسپیکر کے معاون خصوصی برائے بین الاقوامی امور نے کہا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران مسجد الاقصی کے حالیہ واقعات میں زخمی ہونے والے فلسطینیوں کے لئے ادویات اور امدادی ٹیمیں بھجینے پر آمادہ ہے.

یہ بات 'حسین امیرعبداللہیان' نے گزشتہ روز تہران میں متعین فلسطین کی مزاحمتی تنظیم حماس کے نمائندہ 'خالد القدومی' کے ساتھ ایک ملاقات میں گفتگو کرتے ہوئے کہی.

اس موقع پر انہوں نے فلسطینی انتفاضہ کی کانفرنس کا مستقل سیکرٹریٹ اور 800 بین الاقوامی غیر سرکاری تنظیموں کے درمیان موجودہ تعلقات کا حوالہ دیتے ہوئے اور مظلوم فلسطینی عوام کے حوالے سے اسلامی جمہوریہ ایران کی حمایت اور سنجیدہ اقدامات کی وضاحت کی.

امیرعبداللہیان نے ناجائز صہیونی ریاست کے وحشیانہ اقدامات سے مقابلہ کرنے کے لئے اسلامی ممالک کے درمیان باہمی تعاون پر زور دیا.

فلسطینی انتفاضہ کی حمایت میں عالمی کانفرنس کے سیکرٹری جنرل نے ناجائز صہیونی ریاست کی جانب سے فلسطینی نمازیوں کو مسجدالقصی کے اندر جانے کو روکنا اور چار مظلوم فلسطینی کے شہادت اور 400 سے زائد مجروح پر اپنے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران اس مجروحوں کے علاج کے لئے طبی ٹیمیں اور دوائیں بھیجنے پر آمادہ ہے.

خالد القدومی نے کہا کہ ناجائز صہیونی ریاست کے ایسے وحشیانہ اقدامات کا مقصد مسجد الاقصی کا دوبارہ قبضہ ہے اور ان کے ایسے اقدامات کے باوجود ہزارون کی تعداد میں فلسطینیوں مسجدالاقصی کے دروازے کے قریب پر نماز پڑھ رہے ہیں.

انہون نے مزید کہا کہ قدس کے شہریوں مسجدالاقصی کے دوبارہ قبضے کی شدید مذمت کرکے اور ناجائز صہیونی ریاست کے سیکورٹی اقدامات کا شدید مخالفت کرتے ہیں.

فلسطینی تنظیم حماس کے نمائند نے کہا کہ گزشتہ دہائیوں سے اب تک ناجائز صہیونی ریاست فلسطینی قوم کے مسجد الاقصی میں داخلے پر کنٹرول کرنا چاہتے ہیں مگر بہادر قوم ان کا منہ ٹور جواب دوں گے.

9393*274**