جوہری معاہدے کے نفاذ کا عمل جاری ہے: ایران

تہران - ارنا - ایرانی دفترخارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ جوہری معاہدے کے نفاذ کا عمل مثبت سمت میں آگے بڑھ رہا ہے اور امریکیوں کے مطابق وہ ابھی اس معاہدے کے پابند ہیں تاہم خلاف ورزی کی بات اور اس معاہدے سے علیحدگی کی باتوں میں خاصہ فرق ہے.

یہ بات 'بہرام قاسمی' نے پیر کے روز اپنی ہفتہ وار پریس بریفنگ میں صحافیوں کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہی.

اس موقع پر انہوں نے جوہری معاہدے پر امریکیوں کے رویے کے حوالے سے کہا کہ جوہری معاہدہ ایک کثیرالجہتی معاہدہ ہے اور دوطرفہ نہیں اور یورپی ممالک اس کے مطابق عمل اور امریکیوں کے غلطی رویے کا مخالفت کرکے اور اس کے نفاذ کا عمل مثبت سمت میں آگے بڑھ رہا ہے.

قاسمی نے کہا کہ امریکیوں کے مطابق وہ ابھی اس معاہدے کے پابند ہیں تاہم خلاف ورزی کی بات اور اس معاہدے سے علیحدگی کی باتوں میں خاصہ فرق ہے اور یورپ، چین اور روس کی پوزیشن شفاف ہے.

ایرانی ترجمان نے کہا کہ ہم امریکیوں کے بے بنیاد بیانات پر عادت کرتے ہیں اور اسلامی جمہوریہ ایران امریکیوں اور گروپ 5+1 کے رویے کو زیادہ احتیاط اور قریب سے دیکھ رہا ہے.

انہون نے مزید کہا کہ ہم نے جوہری معاہدے کے مشترکہ کمیشن کی حالیہ نشست میں امریکہ کی خلاف ورزی کی وضاحت کرتے ہوئے اور تمام فریقین نے اس عالمی معاہدے پر اپنے قائم رہنے کی ضرورت پر زور دیا.

انہوں نے کہا کہ جوہری معاہدے کی خلاف ورزی ایک پیچیدہ مسئلہ ہے جو جوہری معاہدے پر نگران کمیٹی ایرانی وزارت خارجہ کی رپورٹ کی وصولی کے بعد اس کا فیصلہ کیا جائے گا.

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ ہم مشترکہ کمیشن کی نشستوں میں امریکیوں کی خلاف ورزی کے موضوع کا جائزہ لینا جاری رہیں گے.

انہوں نے کہا کہ ہمیں امید ہے کہ عالمی جوہری توانائی ادارے اور مشترکہ کمیشن کے فریقین کی تصدیق کے مطابق دوسرے ممالک اسلامی جمہوریہ ایران کی طرح اس عالمی معاہدے پر عملدرآمد کریں.

9393*274**