پاسداران انقلاب کیخلاف پابندیوں سے امریکہ کو کوئی فائدہ نہیں ہوگا: ایران

تہران - ارنا - اسلامی جمہوریہ ایران نے امریکہ کو انتباہ کیا ہے کہ سپاہ پاسداران اسلامی انقلاب (IRGC) کے خلاف پابندیوں کا استعمال اسٹریٹجک غلطی ہوگی اور اگر امریکہ اس کا مرتکب ہوا تو اسے کوئی فائدہ نہیں ملے گا.

یہ بات ترجمان دفترخارجہ 'بہرام قاسمی' نے پیر کے روز تہران میں اپنی ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران امریکی کانگریس کی جانب سے ایران مخالف نئی پابندیوں کا جائزہ لئے جانے پر اپنے ردعمل میں کہی.

اس موقع پر انہوں نے کہا کہ امریکی کانگریس کے اقدام کے بعد ہم اپنے مؤقف کا اعلان کریں گے تاہم مجموعی طور پر ایران کسی بھی ملک کی جانب سے دوسرے ممالک پر پابندیاں لگانے کی سخت مخالفت کرتا ہے.

قاسمی نے بتایا کہ پابندیاں لگانے کا عمل ایک غیرمنصفانہ اور ناکارآمد شیوہ ہے اور ماضی میں بھی ہم نے دیکھا ہے کہ عالمی پابندیوں کے باوجود ایران نے اپنے اندرونی وسائل پر انحصار کرتے ہوئے مختلف شعبوں میں ترقی حاصل کی ہے.

انہوں نے پابندیوں اور جارحانہ رویے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ایسے رویے سے صرف اور صرف کشیدگی اور تناؤ میں اضافہ ہوگا.

بہرام قاسمی نے کہا کہ ایران کے خلاف دشمن پر مبنی رویے اور اقدامات اٹھائے جارہے ہیں جبکہ کچھ ہی مہینوں پہلے اس ملک میں ایک شفاف انتخابات کا انعقاد کیا گیا جس میں پوری قوم نے آزادانہ طور پر اپنی رائے کا اظہار کیا اور دوسرے طرف جابر اور آمر ممالک ہیں جن کے پاس تیل کے ڈالروں کے سوا کچھ نہیں لہذا اس حوالے سے دہرے معیار اور امتیازی سلوک ہماری لئے باعث حیرت ہے.

انہوں نے کہا کہ حکومت امریکہ نے ایرانی قوم کے خلاف ہر طرح کی دشمن پالیسی اور جارحانہ تحرکات سے دریغ نہیں کیا اور اس نے ثابت کیا کہ وہ ہرگز ایک بھروسہ مند حکومت نہیں بن سکتی.

قاسمی نے مزید کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران ایک ایسا ملک ہے جو دوسروں کی امداد کے بغیر اپنی ترقی کا سفر طے کرتا ہے جبکہ ہماری طاقت اور استحکام سے دوسرے فریق تشویش کا شکار ہے اور وہ اس بات سے خوفزدہ ہیں کہ مستقبل میں ایران کی طاقت اور قابلیت میں مزید اضافہ ہوگا.

ایران جوہری معاہدے کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ ہم امریکی حکومت پر بھروسہ نہیں کرسکتے اور مستقبل میں دیکھنا ہوگا کہ ان کا رویہ کیا ہوگا اور کس طرح کے مسائل پر مذاکرات کا امکان ہے.

قاسمی نے کہا کہ امریکہ جوہری معاہدے کے حوالے سے اتنی خلاف ورزی کا مرتکب ہوا ہے کہ اس نے دونوں ممالک کے درمیان پہلے سے کھڑی بداعتمادی کی دیوار کو مزید بلند کردیا ہے.

٢٧٤**