عراق کو تقسیم کرنے کے محرکات سے صرف دشمنوں کو فائدہ ملے گا: ایڈمیرل شمخانی

تہران - ارنا - اعلی ایرانی قومی سلامتی کونسل کے سیکرٹری نے اس بات پر انتباہ کیا ہے کہ عراق کی جغرافیائی سالمیت کے خلاف سازشیں اور ملک کو تقسیم کرنے کے محرکات سے اس ملک میں بدامنی اور عدم استحکام پیدا ہوگا بالخصوص دشمنوں کی جانب سے مذموم عزائم کے لئے فضا قائم ہوسکتی ہے.

ان خیالات کا اظہار ایڈمیرل 'علی شمخانی' نے آج بروز اتوار ایران کے دورے پر آئے ہوئے عراق کے وزیر دفاع میجر جنرل 'عرفان محمود عبدالغفور عبداللہ الحیالی' کے ساتھ ایک ملاقات میں گفتگو کرتے ہوئے کیا.

اس موقع پر فریقین نے خطے کی تازہ ترین صورتحال بشمول ایران اور عراق کے دفاعی تعاون کے حوالے سے بات چیت کی.

ایڈمیرل شمخانی نے دہشتگردوں کے خلاف عراقی قوم، مسلح افواج اور حکومت کی مزاحمت اور دشمن عناصر کو شکست دینے کے عزم کو سراہتے ہوئے کہا کہ خطے میں دہشتگردی کے شکار ہونے والے ممالک کے درمیان قریبی تعاون ناگزیر ہے اور ان ممالک کو چاہئے دفاعی اور سیکورٹی کے علاوہ ثقافتی شعبے میں مشترکہ سرگرمیوں سے انتہاپسندی اور دہشتگردی کی شیطانی سوچ کا مقابلہ کریں.

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ علاقائی ممالک کے درمیان مضبوط تعلقات اور قریبی تعاون سے ہی غیرعلاقائی ممالک کی مداخلت اور دہشتگردوں کے خلاف ان کے نام نہاد مقابلے اور ان کی ڈرامہ بازیوں کو بے نقاب کیا جاسکتا ہے.

ایرانی سپریم لیڈر کے نمائندے نے مزید کہا کہ عراقی قوم، حکومت اور مسلح افواج نے امریکیوں اور دہشتگردی کے خلاف نام نہاد دعوے کرنے والے ممالک کو دیکھایا کہ انہوں نے باہمی اتحاد، مزاحمت، جذبہ ایمانی بالخصوص مذہبہ رہنماؤں کی ہدایت کے ذریعے ملک میں دہشتگردوں کو ناقابل فراموش شکست دی اور دہشتگردوں کے زیر قبضے علاقوں کو مکمل طور پر آزاد کرایا.

ایڈمیرل علی شمخانی نے کہا کہ عراق میں قومی اتحاد، پائیدار استحکام اور جغرافیائی سالمیت میں ہی اس ملک اور پورے خطے کا فائدہ ہے اور ایرانی قوم اور حکومت کی جانب سے بھی ماضی کی طرح عراقی مسلح افواج کی بھرپور حمایت کا سلسلہ جاری رہے گا.

انہوں نے علاقائی صورتحال بالخصوص مظلوم فلسطینی عوام کے خلاف صہیونیوں کے حالیہ مظالم کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مسجد الاقصی میں فلسطینی عوام کی تحریک اور صہیونیوں کے خلاف مزاحمت، ان بزدل علاقائی ممالک کے لئے منہ توڑ جواب ہے جو فلسطین جیسی ایک اسلامی ریاست پر قبضہ جمانے والے جابر عناصر کے ساتھ باہمی تعلقات کے قیام کے خواہاں ہیں.

٢٧٤**