ایران ہرگز دوبارہ جوہری معاہدے پر مذاکرات نہیں کرے گا: بروجردی

تہران - ارنا - سنئیر ایرانی سیاستدان اور رکن پارلیمنٹ نے اس بات پر زور دیا ہے کہ امریکہ کو جوہری معاہدے کے مطابق عمل کرنا چاہیئے اور اسلامی جمہوریہ ایران ہرگز دوبارہ مذاکرات نہیں کرے گا.

يہ بات ايراني مجلس (پارليمنٹ) كي قومي سلامتي اور خارجہ پاليسي كميٹي كے چيئرمين 'علاءالدين بروجردي' نے اتوار كے روز امريكہ كي خلاف ورزي كے حوالے سے كہي.

اس موقع پر انہوں نے كہا كہ اسلامي جمہوريہ ايران كے ساتھ مذاكرات كرنے والے ممالك گروپ 5+1 نے جوہري معاہدے كے حوالے سے دوبارہ مذاكرات كو منظور نہيں كيا.

سنئير بروجردي نے ايراني وزير خارجہ كے حاليہ بيانات كا حوالہ ديتے ہوئے كہا كہ محمد جواد ظريف كے مطابق جوہري معاہدہ ايك دوطرفہ معاہدہ نہيں بلكہ ايك عالمي معاہدہ ہے اور اس پر دوبارہ مذاكرات نہيں كرسكتا ہے.

انہوں نے اس بات پر زور ديا كہ تمام فريقين كي جانب سے جوہري معاہدے پر دستخط كرنے كے بعد اقوام متحدہ كي سلامتي كونسل نے اس كي تصديق كيا اسي لئے دوبارہ مذاكرات نہيں كرنا چاہيئے.

ايراني ركن پارليمنٹ نے امريكي صدر ٹرمپ كے حاليہ بيانات كو اشارہ كرتے ہوئے كہا كہ جوہري معاہدے پر دوبارہ مذاكرات كرنے كي تجويز امريكي حكومت كي كھلي خلاف ورزي كي علامت اور اس حوالے سے امريكہ تنہائي كا شكار ہے.

انہوں نے جوہري معاہدے پر آٹھويں مشتركہ كميشن كي نشست ميں نائب ايراني وزير خارجہ برائے قانوني اور بين الاقوامي امور 'سيد عباس عراقچي' كے بيانات كے حوالے سے كہا كہ تمام فريقين نے منعقدہ مذاكرات ميں امريكہ كي جانب سے اس عالمي معاہدے كے مطابق عمل كرنے پر زور ديا.

9393*271**