ایرانی عازمین حج کے لئے پہلے مرحلے میں ایک ہزار الیکٹرانک ویزے جاری

تہران - ارنا - ایرانی ادارہ حج و زیارات کے نائب سربراہ نے کہا ہے کہ رواں سال حج کی سعادت حاصل کرنے والے ایرانی زائرین کے لئے پہلے مرحلے میں الیکٹرانک ویزے جاری کردئے گئے ہیں.

'نصراللہ فرہمند' نے ارنا کے نمائندے کے ساتھ خصوصی گفتگو کرتے ہوئے مزید کہا کہ زائرین کو الیکٹرانک ویزے جاری ہونے کے بعد ان کی تفصیلات اور پرنٹ متعلقہ کاروانوں کے عہدیداروں کو دے دئے جائیں گے.

انہوں نے کہا کہ ایرانی عازمین حج کے لئے سعودی عرب میں کوئی مسئلہ درپیش نہیں ہوگا کیونکہ دفترخارجہ کے 10 اہلکار مکہ، مدینہ اور جدہ میں تعینات ہوں گے جن کا کام زائرین کے مسائل کا ازالہ کرنا ہے بالخصوص اگر کسی زائر کا پاسپورٹ گم ہوجائے تو اس کے لئے ایک ایگزٹ پرمٹ جاری کیا جائے گا جس کے ذریعے ایرانی زائر بغیر کسی پریشانی کے حج ادا کرنے کے بعد سعودی عرب سے نکل سکتا ہے.

ایرانی عہدیدار نے بتایا کہ اس وقت ایرانی عازمین حج کی رہائش، ٹرانسپورٹیشن اور خوراک کے حوالے سے انتظامات کو حتمی شکل دینے کے لئے مختلف ایرانی اہلکاروں پر مشتمل ٹیم سعودی عرب میں موجود ہے.

یاد رہے کہ ایرانی سپریم لیڈر کے نمائندہ برائے امور حج نے بتایا تھا کہ سعودی حکام نے ایران کے ساتھ ہونے والے مذاکرات میں بارھا اس عہد کا اعادہ کیا ہے کہ وہ ایرانی زائرین کی عزت، سلامتی اور اقدار کو یقینی بنانے کے لئے پُرعزم ہیں.

نائب ایرانی وزیر ثقافت اور حج ادارے کے سربراہ حمدی محمدی نے اس سال 86 ہزار 500 ایرانی شہریوں کو حج پر بھیجے جانے کا ذکر کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران اور سعودی عرب حج مسئلے کو سیاست سے الگ سمجھتے ہیں.

ایرانی سپریم لیڈر کے نمائندہ برائے امور حج و زیارات کے مطابق، اس سال 86 ہزار ایرانی زائرین کو حج پر بھیجا جائے گا اور حج کے موقع پر زائرین کے لئے دعائے کمیل کی روحانی محفل اور مشرکین کے خلاف یوم برائت کی تقریب بھی منعقد ہوں گی.

علامہ قاضی عسکر نے بتایا تھا کہ ایرانی وفد نے سعودی وزیر حج کے ساتھ ہونے والے مذاکرات میں واضح طور پر اپنے مطالبات پیش کئے اور ان مذاکرات کے اختتام پر حتمی مفاہمت طے پاگئی جس کے نتیجے میں اس سال 86 ہزار ایرانی شہری حج کے عظیم فریضے کا شرف حاصل کریں گے.

سنئیر ایرانی حج عہدیدار نے بتایا کہ سعودی حکام کے ساتھ ایرانی زائرین کو سیکورٹی کی مکمل فراہمی، طبی سہولیات، قونصلر خدمات تک رسائی اور دیگر موضوعات پر تفصیلی بات چیت کی گئی اور سعودی حکام نے ہمارے مطالبات مان لیے.

٢٧٤**