ایران مخالف منافقین ٹولے کی حمایت کرنے پر خرازی کی فرانس پر تنقید

تہران - ارنا - اعلی ایرانی سفارتکار اور سابق وزیر خارجہ نے ایران مخالف جرائم پیشہ ور گروپ کے منافق عناصر کی حمایت کرنے پر فرانس کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا ہے کہ فرانس، ایران کے ساتھ باہمی احترام پر تعلقات کے قیام کا دعویٰ کیسے کرسکتا ہے جبکہ وہ دہشتگرد گروپوں کے حوالے سے دوہرہ معیار اپناتا ہے.

ان خیالات کا اظہار ایران کی خارجہ تعلقات اسٹریٹجک کونسل کے سربراہ 'سید کمال خرازی' نے دورہ فرانس کے موقع پر 'پیرس کی بین الاقوامی سائنسز اکیڈمی' کی جانب سے مشرق وسطی کی تشویشناک صورتحال اور ایران کی سیکورٹی پوزیشن کے عنوان سے منعقدہ کانفرنس میں خطاب کرتے ہوئے کیا.

اس موقع پر انہوں نے کہا کہ ایران اپنے دشمنوں کے برعکس مشرق وسطی کے علاقے میں امن و استحکام کا خواہاں ہے، اور موجودہ صورتحال میں ایران تناو اور تشدد کا شکار مشرق وسطی میں ایک پُرامن جزیرے کے طور پر ابھرا ہے.

انہوں نے مزید کہا کہ صدیوں پرانے زمانے سے ایرانی قوم باہمی اور پُرامن بقائے کے خواہاں ہیں اور اسلام کی آمد سے اس جذبے میں مزید اضافہ ہوگیا.

سنئیر ایرانی سفارتکار نے بتایا کہ اسلامی انقلاب کی فتح کے بعد بعض علاقائی اور غیرعلاقائی ممالک نے ایران پر جنگ مسلط کروانے میں سازشیں کیں مگر ایرانی عوام نے ان تمام سازشوں کا ناکام بناکر سربلند ہوگئے جس پر عالمی ماہرین خود اپنی حیرانگی کا اظہار بھی کرچکے ہیں.

انہوں نے کہا کہ ہماری بعض پڑوسی بالخصوص سعودی عرب ایران میں مذہبی اور قومی اختلافات کی آگ کو بھڑکانے کے لئے پیسہ خرچ کر رہا ہے.

خرازی نے کہا کہ سعودیہ کا خیال تھا کہ انتہاپسندی کی سوچ سے بھرپور وہابیت کو ایران اور ایرانی عوام کے درمیان فروغ ملے گی مگر اس نے دیکھا کہ اس حکمت عملی کو سنگین شکست ہوئی کیونکہ ایران ایک بڑا ملک اور یہاں قومی یکجہتی پر یقین رکھنے والے عوام موجود ہیں.

انہوں نے کہا کہ ایران میں طاقتور مسلح افواج اور فوجی قابلیت کا اصل مقصد دشمنوں کی سازشوں کو ناکام کرنا ہے، تاہم اگر ملک میں آج امن و امان کی صورتحال مضبوط ہے تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ دشمن ہمارے خلاف کچھ نہیں کررہا.

سید کمال خرازی نے بتایا کہ ناجائز صہیونی ریاست، امریکہ، سعودی عرب اور بدقسمتی سے فرانس، ایران مخالف منافقین گروپ کی حمایت کررہے ہیں جن کے عناصر ماضی میں ہزاروں نہتے ایرانی شہریوں کو بے دردی سے قتل کیا، ایران اور عراق کی جنگ میں منافقین عناصر نے ملک کے خلاف غداری کرکے صدام کا ساتھ دیا اور امریکہ کے لئے جاسوسی کرتے رہے.

ایران اور فرانس کے تعلقات کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک سیاسی بالخصوص سیکورٹی کے شعبوں میں دوطرفہ تعاون کو بڑھانے کے لئے اچھی صلاحیت رکھتے ہیں.

سابق ایرانی وزیر خارجہ نے جوہری معاہدے کے نفاذ کے بعد ایران کی جانب سے مسافربردار طیاروں کی خریداری، گاڑیوں کی مشترکہ پیداوار اور تیل ذخائر پر دوطرفہ تعاون کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایران میں فرانسیسی کمپنیوں کی کاروباری سرگرمیوں کےلئے کوئی حد مقرر نہیں بلکہ دونوں ممالک کے درمیان سیاسی اور سیکورٹی تعاون سے علاقائی سلامتی بالخصوص فرانس اور یورپ میں قیام امن کے لئے مدد ملے گی.

٢٧٤**