ایران کا سعودی عرب کے ساتھ بات چیت کے لئے آمادگی کا اظہار

تہران - ارنا - سنئیر ایرانی سفارتکار اور سابق وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران موجودہ بڑھتی ہوئے کشیدگی کے باوجود سعودی عرب کے ساتھ بات چیت کے لئے تیار ہے.

یہ بات ایران کی خارجہ تعلقات اسٹریٹجک کونسل کے سربراہ اور نامور سفارتکار 'سید کمال خرازی' نے دورہ پیرس کے موقع پر 'فرانس-24' نیوز چینل کو خصوصی انٹریو دیتے ہوئے کہی.

انہوں نے کہا کہ ہمیں علم ہے کہ وہ (ریاض) یمن، بحرین، عراق اور شام میں سنگین غلطیوں کا مرتکب ہوا ہے مگر اب بھی ہم بات چیت کے حق میں ہیں.

سابق ایرانی وزیر خارجہ نے ملکی شخصیات اور کمپنیوں کے خلاف حالیہ امریکی پابندیوں کے حوالے سے کہا کہ ان پابندیوں سے ایران کے جوہری معاہدے کی روح کی خلاف ورزی ہوئی ہے تاہم ایران اس حوالے سے اپنے وعدوں پر قائم رہے گا.

خرازی نے 7 جون کو تہران میں داعش کے حملوں کے حوالے سے بتایا کہ ایران نے ہمیشہ دہشتگردی کے خلاف مقابلہ کیا ہے اور اس لعنت کے خاتمے کے لئے بھی پُرعزم ہے.

انہوں نے کہا کہ دہشتگردوں نے ہمیشہ ایران کو نقصان پہنچایا ہے مگر ہمارے ملک میں استحکام کی صورتحال اتنی مضبوط تھی کہ ہم نے ایسے عناصر کا ڈٹ کر مقابلہ کیا.

سید کمال خرازی نے بتایا کہ شام اور عراق کی حکومتوں کو مدد کرنے کی ایک اصل وجہ یہ ہے کہ ایران اپنی سلامتی کے لئے تشویش رکھتا تھا کیوں کہ دہشتگرد ہماری سرحدوں کے بہت قریب پہنچ چکے تھے.

شام کے حوالے سے فرانس کے مؤقف میں تبدیلی آئی ہے بالخصوص فرانسیسی صدر نے اپنے ایک حالیہ بیان میں کہا ہے کہ اب صدر بشار الاسد کو ہٹانے کی ضرورت نہیں، اس حوالے سے خرازی نے فرانسیسی صدر کے مؤقف کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ایک حقیقت پسندانہ مؤقف ہے.

خرازی نے ایران میں انسانی حقوق کے حوالے سے کہا کہ اگر کوئی ملزم کی جاسوسی کے جرم میں سزا ہو تو اس کے خلاف ملنے والے ثبوت کو منظر عام پر لایا جائے گا.

٢٧٤**