جوہری معاہدے کی ناکامی پر امریکہ کو خمیازہ بھگتنا ہوگا: رکن ایرانی مجلس

تہران - ارنا - ایران کی اسلامی مجلس شوریٰ (پارلیمنٹ) نے کہا ہے کہ امریکہ یکطرفہ اور اکیلا ایران جوہری معاہدے سے نکل نہیں سکتا اور اگر ایسا ہوا تو امریکہ کو ہی اس کا خمیازہ بھگتنا پڑے گا.

یہ بات ایرانی مجلس کی قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیٹی کے رکن 'علی نجفی خوشرودی' نے جمعہ کے روز ارنا کے نمائندے کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہی.

اس موقع پر انہوں نے کہا کہ امریکیوں کی کوشش ہے کہ جوہری معاہدے کی ناکامی کے ملبے کو ایران پر ڈالیں جبکہ جوہری معاہدہ، ایک بین الاقوامی دستاویز ہے جس کو امریکہ یکطرفہ طور پر نہیں ناکام بنا سکتا بلکہ اس میں گروپ 1+5 میں شامل عالمی قوتیں بھی شریک ہیں.

انہوں نے کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے رائے عامہ اور عالمی دباؤ کے زیر اثر اب تک جوہری معاہدے پر قائم رہنے پر مجبور ہوئے ہیں اور انہوں نے ایران مخالف پابندیوں کی معطلی کو بھی توثیق کردی ہے.

امریکی سینیٹ کی جانب سے بعض ایرانی شخصیات اور پاسداران انقلاب کے خلاف حالیہ پابندیوں کا حوالہ دیتے ہوئے رکن ایرانی پارلیمنٹ نے کہا کہ ایرانی اراکین پارلیمنٹ نے بھی ایک غیرمعمولی بل پاس کیا جس کا مقصد خطے میں امریکی دہشتگردی اور اس کی مہم جوئی کا سختی سے مقابلہ کرنا ہے.

انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ کے بل کے تحت ایرانی دفترخارجہ دیگر اداروں کے تعاون سے خطے میں امریکہ کی ریاستی دہشتگردی بالخصوص داعش، القاعدہ اور البصرہ فرنٹ کی دہشتگرد تنظیموں کے ساتھ رابطے پر کڑی نظر رکھی جائے گی اور دفترخارجہ ایک ایسی فہرست تیار کرے گا جس میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی، دہشتگردوں بالخصوص ناجائز صہیونی ریاست کی حمایت کرنے والی امریکی شخصیات اور کمپنیاں شامل ہوں گی جن کو ایران اپنی پابندیوں کی فہرست میں شامل کرے گا.

٢٧٤**