سعودی حکام ایرانی زائرین کی سلامتی اور عزت کو یقینی بنانے کے ذمہ دار ہیں

تہران - ارنا - ایرانی سپریم لیڈر کے نمائندہ برائے امور حج نے کہا ہے کہ سعودی حکام نے ایران کے ساتھ ہونے والے مذاکرات میں بارھا اس عہد کا اعادہ کیا ہے کہ وہ ایرانی زائرین کی عزت، سلامتی اور اقدار کو یقینی بنانے کے لئے پُرعزم ہیں.

یہ بات علامہ 'سید علی قاضی عسکر' نے گزشتہ روز تہران میں آئندہ حج کے حوالے سے منعقدہ قومی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی.

اس موقع پر انہوں نے ایرانی ادارہ حج کے سربراہ کے حالیہ دورہ سعودی عرب اور سعودی وزیر حج کے سے ہونے والے مذاکرات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ سعودی حکام نے ایک بار پھر اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ وہ موسوم حج کے دوران ایرانی زائرین کے حوالے سے اپنی ذمہ داریوں پر قائم رہیں گے.

انہوں نے ایسی افواہوں کو مسترد کردیا جس میں دعوی کیا گیا تھا کہ سعودی عرب کے نئے ولیعہد ایرانی زائرین کے حوالے سے کسی عہد اور ذمہ داری کو تسلیم نہیں کرتے.

سپریم لیڈر کے نمائندے نے مزید کہا کہ سعودی حکام بالخصوص ان کے وزیر حج نے ذمہ دارانہ طور پر اس بات کی یقین دہانی کرائی ہے کہ سعودیہ میں سیاسی تبدیلی سے حج پر بالخصوص ایرانی زائرین کے حوالے سے عہد اور ذمہ داریوں پر کوئی اثر نہیں آئے گا اور ہم ایرانی زائرین کی عزت اور سلامتی کو یقینی بنانے کا اعادہ کرتے ہیں.

یاد رہے کہ نائب ایرانی وزیر ثقافت اور حج ادارے کے سربراہ حمدی محمدی نے اس سال 86 ہزار 500 ایرانی شہریوں کو حج پر بھیجے جانے کا ذکر کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران اور سعودی عرب حج مسئلے کو سیاست سے الگ سمجھتے ہیں.

ایرانی سپریم لیڈر کے نمائندہ برائے امور حج و زیارات کے مطابق، اس سال 86 ہزار ایرانی زائرین کو حج پر بھیجا جائے گا اور حج کے موقع پر زائرین کے لئے دعائے کمیل کی روحانی محفل اور مشرکین کے خلاف یوم برائت کی تقریب بھی منعقد ہوں گی.

علامہ قاضی عسکر نے بتایا تھا کہ ایرانی وفد نے سعودی وزیر حج کے ساتھ ہونے والے مذاکرات میں واضح طور پر اپنے مطالبات پیش کئے اور ان مذاکرات کے اختتام پر حتمی مفاہمت طے پاگئی جس کے نتیجے میں اس سال 86 ہزار ایرانی شہری حج کے عظیم فریضے کا شرف حاصل کریں گے.

سنئیر ایرانی حج عہدیدار نے بتایا کہ سعودی حکام کے ساتھ ایرانی زائرین کو سیکورٹی کی مکمل فراہمی، طبی سہولیات، قونصلر خدمات تک رسائی اور دیگر موضوعات پر تفصیلی بات چیت کی گئی اور سعودی حکام نے ہمارے مطالبات مان لیے.

٢٧٤**