دنیا میں دہشتگردی کے حوالے سے امریکی رپورٹ من گھڑت اور رائے عامہ کو منحرف کرنے کی ناکام کوشش ہے: ایران

تہران - ارنا - اسلامی جمہوریہ ایران نے دنیا میں دہشتگردی کی صورتحال کے حوالے سے امریکی دفترخارجہ کی 2016 رپورٹ کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے اسے عالمی رائے عامہ کو منحرف کرنے کی ایک ناکام کوشش قرار دیا.

ترجمان دفتر خارجہ 'بہرام قاسمی' نے جمعرات کے روز اپنے ایک بیان میں امریکی رپورٹ کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ نے ایسی رپورٹ کی اشاعت سے دنیا سے دہشتگرد تنظیموں کی حمایت اور تشکیل کے حوالے سے اپنے کردار کو چھپانے کی کوشش کی ہے.

انہوں نے اسلامی جمہوریہ ایران پر دہشتگردی کی حمایت کرنے والی حکومت کے امریکی الزام کو مسترد کرتے ہوئے مزید کہا کہ اس رپورٹ کی کوئی حیثیت نہیں اور اس سے امریکیوں کی جانب سے جاری دشمن رویہ، جارحانہ پالیسی اور غلط تجربیوں ظاہر ہوتی ہیں.

قاسمی نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران بلاامتیاز دہشتگردی کے خلاف مقابلہ کر رہا ہے جس کا اعتراف عالمی برداری بھی کرچکی ہے مگر بدقسمتی سے امتیازی سلوگ اور بے بنیاد اصولوں کی بنیاد پر ایسی رپورٹ کی اشاعت کرتے ہیں جن میں دہشتگردی کے خلاف فرنٹ لائن پر موجود ایرانی کردار کو نظرانداز کردیا گیا.

انہوں نے کہا کہ امریکی رپورٹ کی حیثیت نہ ہونے کے لئے یہی بات کافی ہے کہ اس میں ان بعض علاقائی ممالک کو دہشتگردی کے خلاف امریکہ کے اتحادی ملک قرار دیا جاچکا ہے جو خود دہشتگردوں کی تخلیق اور ان کی پشت پناہی میں پیش پیش ہیں اور مختلف عالمی اداروں اور ریاستوں نے بھی یہ بات کہہ چکی ہیں کہ امریکہ اور اس کے اتحادی ممالک کے مقابلے میں دہشتگردوں کے خلاف ایران کی کارکردگی کا موازنہ نہیں کیا جاسکتا.

بہرام قاسمی نے اس بات پر زور دیا کہ ایران گزشتہ چار دہائیوں سے مختلف دہشتگرد گروپوں کا شکار رہا ہے اس کے باوجود ہم انتہاپسندی اور دہشتگردی کے خاتمے کے لئے پُرعزم ہیں اور اس مقصد کے لئے جب تک عراق اور شام کی حکومتیں چاہیں ہم ان کے ساتھ کھڑے رہیں گے بالخصوص داعش کا قلع قمع کرنے کے لئے ان کی مدد کرتے رہیں گے.

انہوں نے مزید کہا کہ ہم تشدد اور انتہاپسندی سے پاک مشرق وسطی پر یقین رکھتے ہیں اور مقصد کے لئے بعض علاقائی اور غیرعلاقائی ممالک کی جانب سے دہشتگردوں کی مالی اور عسکری معاونت کا خاتمہ کیا جانا چاہئے اور نام نہاد فوجی اتحادوں کے بجائے دہشتگردوں کے خلاف لڑنے کے لئے شفاف اور دیانے داری پر مبنی اتحاد کی تشکیل کی ضرورت ہے.

٢٧٤**