مغرب ایران،سعودیہ تنازعات کا فائدہ اٹھا رہا ہے: ارنا نیوز چیف

بیروت - ارنا - اسلامی جمہوریہ ایران کے قومی خبر رساں ادارے (IRNA) کے منیجینگ ڈائریکٹر نے کہا کہ مغربی دنیا ایران اور سعودی عرب کے درمیان تنازعات کا فائدہ اٹھا رہی ہے.

یہ بات 'محمد خدادی' نے گزشتہ دنوں تہران کے دورے پر آئے ہوئے سنئیر لبنانی صحافی اور اخبارات کے ایڈیٹر پر مشتمل ایک میڈیا وفد کے ساتھ ملاقات میں گفتگو کرتے ہوئے کہی.

اس وفد میں مشہور لبنانی اخبار 'الجمہوریہ' کے سنئیر صحافی 'طارق ترشیشی' بھی شامل تھے اور انہوں نے اپنی رپورٹ میں ارنا نیوز ایجنسی کے سربراہ کا حوالہ دیتے

کہا کہ آج ایرانی وزیر خارجہ 'محمدجواد ظریف' اور میجر جنرل 'قاسم سلیمانی' اسلامی جمہوریہ ایران کی طاقت کو دنیا میں اُجاگر کررہے ہیں.

ترشیشی نے ارنا نیوز ایجنسی کے سربراہ کے حوالے سے مزید کہا کہ گروپ 5+1 کے ممالک کے ساتھ جوہری معاہدے کے اتفاق پر کامیاب اور جنرل سلیمانی داعش دہشتگردوں کو ایران کی تمام سرحدوں سے دور ہوسکے.

خدادی نے ایران اور دوسرے ممالک کے درمیان واضح فرق کو اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ دوسرے ممالک نے پیسے کے ذریعہ مختلف گروپ قائم کیا جو سب تباہ ہوگئے مگر لبنان کی حزب اللہ تحریک ہمارے ملک کی مکمل حمایت کرتا ہے.

انہوں نے کہا کہ سفارتی اور فوجی سرگرمیوں میں کوئی تصادم موجود نہیں ہے اور اسلامی جمہوریہ ایران کوئی اندرونی تنازعات کے بغیر جوہری معاہدہ اور شام میں دہشتگردوں کے خلاف جنگ میں کامیابی حاصل کرسکی کیونکہ اندرونی تنازعات کے ساتھ مسائل حل نہیں کیا جائے گا.

ترشیشی نے ایران اور سعودی عرب کے درمیان اختلاف کے حوالے سے خدادی کے نقطہ نظر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب کے سلسلے میں ہم یقین رکھتے ہیں کہ سب ممالک کو اپنے اندرونی مسائل کو خود حل کرنا چاہیئے اور دوطرفہ مشترکہ مفادات کے تحت سعودیوں کے ساتھ مذاکرات کرنا چاہیئے.

ایران کے قومی خبر رساں ادارے کے سربراہ نے اس بات پر زور دیا کہ ہم ناجائز صہیونی ریاست کے بغیر تمام ممالک کے ساتھ مذاکرات کے لئے تیار اور سعودی عرب کے ساتھ نہ صرف جنگ نہیں چاہتا بلکہ دہشتگردوں کی تباہی اور ہم اس ملک کے ساتھ دوطرفہ تعلقات کا خیرمقدم کرتے ہیں.

ایرانی عہدیدار نے کہا کہ ایران کی جانب سے اپنے حاجیوں کو حج پر بھیجنا ہمارے ملک کے خیرسگالی کی علامت ہے اور سعودیوں جنگ کی دھمکیوں کی بجائے حج کے مذاکرات کی طرح دوبارہ مذاکرات انعقاد کریں.

انہوں نے کہا کہ ہم ظالمانہ پابندیوں کو خاتمہ کر سکیں اور ابھی صورتحال میں تمام ممالک سمیت جمہوریہ آذربائیجان، عراق، کویت، پاکستان، افغانستان، لبنان، جرمنی اور اٹلی کے ساتھ اچھے بین الاقوامی تعلقات قائم رکتھے ہیں.

انہوں نے مزید کہا کہ ہم کثیرالجہتی اچھے تعلقات کے لئے بھرپور کوششیں کر رہے ہیں اور امریکہ کے ساتھ جوہری معاہدے پر اتفاق کرسکیں اور داعش دہشتگردوں قائم کرنے والوں کا مقصد اپنے ہتھیاروں کی فروخت ہے.

9393*274**