اپنے وعدوں پر قائم نہ رہنے والا امریکہ دوسروں پر عدم استحکام پیدا کرنے کا الزام نہیں لگا سکتا: ایرانی صدر

تہران - ارنا - ایران کے صدر نے کہا ہے کہ امریکہ جو خود متعدد عالمی معاہدے جیسے کہ پیرس، شمالی امریکہ اور مشرقی ایشیائی معاہدوں پر دستخط کرنے کے باوجود ان پر قائم نہیں رہ سکتا تو وہ دوسروں امن، استحکام اور صبر کی دعوت بھی نہیں دے سکتا.

ان خیالات کا اظہار ڈاکٹر 'حسن روحانی' نے بدھ کے روز کابینہ کے اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے کیا.

اس موقع پر انہوں نے موجودہ صورتحال میں امریکہ کے غلطی رویے کو اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ امریکیوں نے پیرس، کیوبا، شمالی امریکہ اور مشرقی ایشیا کے ساتھ اپنے تمام معاہدوں کی خلاف ورزی کیا اسی لئے اس ملک دنیا میں انسانی حقوق، قانونی حکمرانی، استحکام اور سلامتی کو پھیل نہیں کرسکتا ہے.

صدر روحانی نے خطے میں امریکیوں کی موجودگی کو تنازعات کی وجہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکیوں دہشتگردوں کے مقابلے میں کوئی اقدام نہیں کرسکا اور عراق، شام اور ہمسایہ ممالک کی بہادر قوم اور فوج نے اس سے مقابلہ اور علاقائی سلامتی کو بحالی اور خطے کو دہشتگردوں سے بچا لیا ہے.

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اسلامی جمہوریہ ایران گزشتہ کی طرح اپنے وعدوں پر قائم رہے گا اور امریکہ کی جانب سے ایران پر خلاف ورزی کا الزام لگانا ان کی نئی سازشوں ہے جو اس راستے میں ہرگز کامیاب نہیں ہو سکے گا.

ایرانی صدر نے کہا کہ امریکی حکومت نے کانگریس میں حالیہ خط میں ایران کے جوہرے معاہدے کی دیانتداری پر اعتراف کرتے ہوئے اور اس عالمی معاہدے کا احترام کرنے پر مجبور مگر ہمارے ملک کے خلاف نئی پابندیوں کی تجدید چاہتا ہے.

انہون نے بتایا کہ ہمیں امریکیوں کی سازشوں کے مقابلے میں ہوشیار، اپنی ترقی کے راستے کو جاری رکھنا چاہیئے اور آج وہ جوہری معاہدے کے بعد ایران، ایشیا اور یورپ کے درمیان اچھے اقتصادی تعلقات پر تشویش کا اظہار کررہا ہے.

صدر مملکت نے کہا کہ ہم خوش ہیں کہ گروپ 5+1 کے ممالک جوہری معاہدے کی حفاظت کے لئے بھرپور کوششیں کرتے ہیں اور اسلامی جمہوریہ ایران کی بہادر قوم اور ایرانی پارلیمنٹ امریکہ کی نئی پابندیوں کی تجدید کو منہ ٹور جواب دیں گے.

انہوں نے مزید کہا کہ ہم امریکہ کی خلاف ورزی کو نظر انداز نہیں کرکے اور موجودہ صورتحال سے اچھی طرح استعمال کریں گے اور ایرانی قوم نے رہبر معظم کی ہدایات کے ساتھ جوہری معاہدے کی حمایت کرتے ہوئے اور بڑی کامیابی حاصل کرلی اور عالمی طاقتیں کے برابر میں اپنے حقوق کا دفاع کر سکے.

انہون نے کہا کہ ایرانی عوام جوہری معاہدے کے ذریعہ اقوام متحدہ کی ظالمانہ قوانین اور بورڈ کے فیصلے سے مقابلہ، PDM مسئلے کو حل، ہتھیاروں کی پابندی کو محدود اور ایرانی میزائیل کی پابندیوں کو خاتمہ کرسکیں.

روحانی نے کہا کہ ہماری قوم نے بڑی فتح حاصل کرلی اور آج اچھی صورتحال موجود ہے جو ایرانی قوم اور حکام کو امریکیوں کی سازشوں کے بغیر ایسی صورتحال سے فائدہ اٹھانا چاہیئے.

انہوں نے ایرانی نئی حکومت کے حوالے سے کہا کہ 12ویں حکومت کے کابینہ ایرانی آئین کے مطابق انتخاب ہوجائے گا اور منتخب صدر کو اس راستے میں ماہر افراد کے ساتھ مشورہ کرنا چاہیئے اور 12ویں حکومت موجودہ حکومت کی طرح سنگل پارٹی حکومت نہیں بلکہ ایک ہمہ فریقی حکومت ہو جائے گا.

انہوں نے کہا کہ ایرانی 12ویں حکومت کے حکام کو انتخابات میں تمام شرکت کرنے والی قوم کے رائے کا احترام کرنا چاہیئے اور ہماری نئی حکومت کی بنیاد جمہوریت، ایرانی عوام کا ووٹ اور آئین ہے اور جمہوریت کے مطابق قوم کے ووٹ کا احترام کرنا ناگزیر ہے.

انہوں نے بتایا کہ ایرانی قوم آزادانہ تنقید کرسکیں گے اور ملک میں صدر مملکت عوام کے ووٹوں کے ذریعہ انتخاب کرالیا گیا.

9393*274**