ایران نے جوہری معاہدے کے خلاف ورزی کے حوالے سے امریکی الزامات کو مسترد کردیا

تہران - ارنا - ایرانی محکمہ خارجہ کے ترجمان نے جوہری معاہدے کی خلاف ورزی کرنے کے حوالے سے امریکی الزامات کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران نے متعدد بار امریکی خلاف ورزیوں کو جوہری معاہدے کے مشترکہ کمیشن میں اٹھایا ہے.

'بہرام قاسمی' نے بدھ کے روز اپنے ایک بیان میں امریکی محکمہ خارجہ کی ترجمان ہیدر نوئرٹ کے ایران مخالف الزامات کے بے بنیاد قرار دیتے ہوئے مزید کہا کہ امریکی حکام نے گزشتہ دو سالوں سے اشتعال انگیز اقدامات اور پالیسی کے ذریعے جوہری معاہدے پر اپنے وعدوں کی خلاف ورزی کی ہے اور متعدد بار براہ راست اور بالواسطہ ایران کو جوہری معاہدے کے ثمرات حاصل کرنے کی راہ میں روڑے اٹکائے ہیں.

خطے میں عدم استحکام پیدا کرنے کے حوالے سے ایران پر الزامات کو مسترد کرتے ہوئے قاسمی نے کہا کہ امریکی حکام علاقائی مسائل اور عالمی امور پر اسلامی جمہوریہ ایران کی تعمیری، مستقل اور عزت پر مبنی پالیسیوں کو اپنی جارحانہ اور مداخلت پر مبنی پالیسیوں کے لئے خطرہ سمجھتے ہیں.

انہوں نے مزید کہا کہ ایران اس خطے کی سب سے قدیم تہذیب اور ثقافت رکھنے والا ملک ہے اور ہم ہمیشہ علاقے میں امن و استحکام کو اپنے امن و استحکام سمجھتے آرہے ہیں اور مزید برآں مسلم اقوام کی خوشحالی اور ترقی صرف خطے میں پائیدار امن و امان اور غیرعلاقائی ممالک کی عدم مداخلت کے ذریعے ممکن ہے.

بہرام قاسمی نے مزید کہا کہ امریکہ نے ہزاروں کلومیٹر دور رہ کر ہمارے خطے میں بدامنی، افراتفری، عدم استحکام کی صورتحال پیدا کی ہے اور صرف اپنے مفادات کی فکر ہے جبکہ ایران امریکہ سے زیادہ علاقائی امن و استحکام کے حوالے سے تشویش رکھتا ہے اور اس مقصد کے لئے کسی بھی تعاون سے دریغ نہیں کرتا.

انہوں نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کے عسکری اور فوجی پروگرام کا واحد مقصد ملکی دفاع ہے اور اس نے ہرگز اپنی دفاعی اور فوجی صلاحیتوں کو دوسرے ممالک کے خلاف استعمال نہیں کیا.

قاسمی نے مزید کہا کہ ہم سجھتے ہیں بعض ممالک کی صورتحال کو دانستہ طور خراب کرنے کے مقصد سے امریکی اقدامات اور مداخلت سے ہی علاقائی امن و سلامتی کو سنگین خطرات لاحق ہیں.

٢٧٤**