مغربی ایشیا میں اندرونی تنازعات اور جنگوں کی اصل وجہ غربت ہے: ظریف

نیو یارک - ارنا - اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ مغربی ایشیائی خطے میں اندرونی تنازعات اور جنگوں کی وجہ سے لاکھوں انسان غربت کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں.

یہ بات 'محمد جواد ظریف' نے گزشتہ روز نیو یارک میں منعقدہ اقوام متحدہ کی سالانہ اقتصادی، معاشرتی اسمبلی کے اعلی سطح اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہی.

اس موقع پر انہوں نے بد امنی کو غربت کا اصلی وجہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس اہم مسئلہ کا حل ناگزیر اور غربت موجودہ صورتحال کی بڑی چیلنجوں، انسانیت کی ترقی کے لیے ایک حقیقی خطرہ اور پائیدار ترقی کی بڑی رکاوٹ ہے.

ظریف نے کہا کہ ہمارے ملک میں اسلامی انقلاب کی کامیابی سے اب تک قومی ترقیاتی اور پالیسیوں بالخصوص غربت کے خاتمے کے لئے ایک مضبوط اور قانونی حکمت عملی پر نفاذ کی جاتی ہے.

انہوں نے مزید کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران نے غیر ملکی چیلینجز سمیت آٹھ سالی تحمیلی جنگ اور امریکہ کی ظالمانہ پابندیوں کے ساتھ ایسی پالیسیوں اور حکمت عملی کے تحت بہت ہی کامیابیاں حاصل کرلی.

ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ رضاکارانہ قومی رپورٹ پیش کرنا، کامیاب مثالوں کے تبادلے کے لئے ایک اچھا موقع فراہم کرنا، غربت کے خاتمے کے لئے مزاحمت کی بنیاد پر معیشت کے میدان میں تجربات اور کامیابیوں سے استعمال، سماجی انصاف، غذائی تحفظ، بنیادی خدمات سمیت صحت کی دیکھ بھال کی ترقی، سب کے لئے تعلیم اور صحت، خواتین اور لڑکیوں کو با اختیار بنانا، ماحولیاتی تحفظ کے لئے جدت اور ٹیکنالوجی اور قدرتی وسائل اور جیوویودتا ہمارے ملک کے شمال مغربی حصے میں ارومیہ جھیل کی بحالی کی بھرپور کوششوں میں سے ایک ہے.

انہوں نے کہا کہ پائیدار اقتصادی ترقی کے لئے ایک سازگار بیرونی ماحول کی ضرورت ناگزیر ہے اور ترقی یافتہ ممالک کو فنانسنگ، ٹیکنالوجی کی منتقلی کے حوالے سے اپنے وعدوں پر قائم رہنا چاہیئے.

انہوں نے علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر باہمی تعاون کے لئے اقوام متحدہ کے تعمیری کردار پر زور دیتے ہوئے کہا کہ مغربی ایشیا کا خطی ممالک مکمل جنگوں اور اندرونی تنازعات کا شکار ہے اسی لئے لاکھوں لوگ ایسی بد امنی کی وجہ سے انتہائی غربت میں رہتے ہیں.

انہوں نے بتایا کہ غیر ملکی قبضے، جنگ، تنازعات اور غیر ملکی طاقتوں کے پالیسی مداخلت علاقائی قوموں کو اپنے مال اور قدرتی وسائل اور آزادی سے دور کررہا ہے.

ظریف نے کہا کہ انتہا پسند دہشتگردوں موجودہ شدید مایوسی صورتحال اور اپنے تکفیری نظریے کے فائدہ اتھانے کے ذریعہ ہمارے علاقے اور پوری دنیا میں ناقابل قبول سازشیں کرتے ہیں اور شام، عراق، افغانستان، لیبیا اور یمن میں مظلوم عوام کے قتل عام ان کے وحشیانہ جرائم کی علامت ہے.

انہوں نے کہا کہ ایسی صورتحال میں تمام ممالک کو مشترکہ مقاصد کے ساتھ تمام مسائل کے حل کے لئے بھرپور کوشش کرنا چاہیئے اور اسلامی جمہوریہ ایران عام اور فوری چیلینجز سمیت غربت کے خاتمے اور ماحولیات کی حفاظت کے لئے باہمی بین الاقوامی تعاون کا خیرمقدم کرتا ہے.

ایرانی وزیر خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ ڈاکٹر 'حسن روحانی' کی حکومت کی اہم کامیابی عالمی جوہری معاہدے پر دستخط کرنا جس کے ذریعہ علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر مذاکرات، معاہدے، باہمی احترام اور کثیر الجہتی شعبوں میں باہمی تعاون کے موقع مل گیا ہے.

9393*274**