ٹرمپ انتظامیہ کی نئی پابندیاں ایران جوہری معاہدے کے خلاف ہیں: ظریف

تہران - ارنا - ایران کے وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے نئی پابندیوں سے ایران جوہری معاہدے کی خلاف ورزی ہورہی ہے اور پہلے سے دباؤ کا شکار دوطرفہ تعلقات پر منفی اثرات مرتب ہوں گے.

'محمد جواد ظریف' نے 'سی بی ایس' نیوز چینل کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے مزید کہا کہ ہم امریکہ کی نئی پابندیوں کا جائزہ لیں گے اور دیکھیں گے کہ کیا یہ پابندیاں جوہری معاہدے کے متن کی خلاف ورزی ہیں یا نہیں جس کے بعد ہم اپنی حکمت عملی طی کریں گے.

ظریف نے مزید کہا کہ جوہری معاہدہ بُرا معاہدہ نہیں بلکہ اس سے تمام فریقین کو فائدہ ملا اور سب کے لئے قابل قبول معاہدہ ہے.

انہوں نے کہا کہ ایران جوہری معاہدہ، چندفریقی معاہدہ ہے جس کی توثیق سلامتی کونسل نے بھی کی ہے لہذا یہ کوئی دوطرفہ معاہدہ نہیں جس کو نظرانداز کریں یا اس حوالے سے از سر نو مذاکرات کرنے کا فیصلہ کریں.

ایران پر دہشتگردی کی حمایت کرنے کے امریکی الزامات کو مسترد کرتے ہوئے محمد جواد ظریف نے کہا کہ امریکہ اور اس کے اتحادی بالخصوص سعودی عرب دہشتگردی کی حمایت میں ملوث ہیں.

انہوں نے مزید کہا کہ بعض ممالک دہشتگردوں کے فروغ میں ملوث ہیں جبکہ امریکہ، ایران کے خلاف ایکشن لیتا مگر ہمیں اس کی وجہ نہیں پتہ؟

ظریف نے امریکہ کی جانب سے ایران سمیت 6 مسلم ممالک کے شہریوں پر سفری پابندیوں عائد کرنے کے حوالے سے بتایا کہ ایرانی عوام کے خلاف گزشتہ مہینوں سے امریکہ کے منفی اقدامات یقینا ناقابل قبول ہیں.

انہوں نے بتایا کہ یہ امریکی انتظامیہ اور ٹرمپ پر انحصار کرتا ہے کہ وہ منفی پیغامات اور جارحانہ رویے کو بند کریں.

٢٧٤**