ایران اور سعودیہ کے تعاون سے خطی بحرانوں پر قابو پایا جاسکتا ہے: ظریف

تہران - ارنا - ایران کے وزیر خارجہ نے میزائیل سرگرمیوں کے مقصد کو ملکی دفاع قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ تہران اور ریاض کے درمیان تعاون کے ذریعے علاقائی بحرانوں کو حل کیا جاسکتا ہے.

یہ بات 'محمد جواد ظریف' نے منگل کے روز لبنانی ٹی وی چینل 'المیادین' کو خصوصی انٹریو دیتے ہوئے کہی.

انہوں نے اس موقع پر کہا کہ امریکہ نے عراق میں جنگ چھیڑنے کے حوالے سے تمام انتباہوں بالخصوص ایران کے انتباہ کو نظرانداز کرتے ہوئے اس ملک کی امن اور امان صورت حال کو متاثر کیا.

انہوں نے کہا کہ ایران، جوہری معاہدے کے حوالے سے اپنے وعدوں پر قائم ہے جبکہ امریکہ اس حوالے سے خلاف ورزی کررہا ہے.

ظریف نے ایرانی میزائل پروگرام کے حوالے سے امریکی الزامات کے جواب میں کہا کہ جوہری معاہدے کے مطابق ان میزائلوں پر پابندی ہے جو جوہری ھتھیارو لے جانے کی صلاحیت رکھتے ہوں جبکہ ایران کے پاس ایسا کوئی میزائل نہیں اور نہ ہی ہم ایسے مئزائل ڈیزائن کرتے ہیں.

انہوں نے کہا کہ ایرانی میزائل صرف دفاعی نوعیت کی ہے اور ہم صرف اپنی سلامتی کو یقینی بنانے کے لئے مختلف ھتھیار ملکی وسائل کے ذریعے تیار کرتے ہیں.

ایرانی وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران عراق اور شام کے داخلی امور میں کبھی مداخلت نہیں کیا ہے بلکہ صرف فوجی مشیروں کے تحت دہشت گردی کے خلاف دمشق اور بغداد کی حکرمتوں کے ساتھ قریبی تعاون کررہے ہیں.

عراق کی خودمختاری پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عراق کے شمالی علاقے کردستان میں ریفرنڈم کے انعقاد کے خلاف ہے کیوںکہ اس سے خطے پر گہرے منفی اثرات مرتب ہوں گے.

انہوں نے مزید کہا عراق کے کردستان میں ریفرنڈم نہ کرنے کے حوالے سے خطے کے تمام ممالک کی پالیسی میں یکسانیت اور اتفاق پایا جاتا ہے.

1*274**