پاک،ایران تجارت کے فروغ سے مشترکہ مال بردار ریل گاڑیوں کی تعداد بڑھ گئی ہے: پاکستانی عہدیدار

اسلام آباد - ارنا - پاکستانی محکمہ ریلوے کے ایک عہدیدار کا کہنا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران اور پاکستان کی باہمی تجارتی سرگرمیوں کو فروغ ملنے سے دونوں ممالک کے درمیان مال بردار گاڑیوں کی تعداد میں اضافہ ہوگیا ہے.

ان خیالات کا اظہار صوبائی دارالحکومت کوئٹہ کے ریلوے اسٹیشن کے انچارچ 'محمد ظفر اقبال' نے منگل کے روز ارنا کے نمائندے کے ساتھ خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کیا.

اس موقع پر انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان تجارت کے حوالے سے ایک ماہ میں 7 مال بردار ریل گاڑیاں چلائی جاتی ہیں.

انہوں نے مزید کہا کہ گزشتہ سالوں کے مقابلے میں رواں سال مال بردار ریل گاڑیوں کی تعداد میں قابل قدر اضافہ ہوا ہے اس کا مطلب ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان تجارت تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے.

پاکستانی عہدیدار نے کہا کہ کوئٹہ سے تفتان سرحدی چوکی تک ریلوے لائن کی حالت خستہ ہے اور اس کی تعمیر نو کی اشد ضرورت ہے.

انہوں نے مزید کہا کہ ایران سے زیادہ تر کیمیائی مصنوعات اور سیمنٹ پاکستان آتا ہے جبکہ یہاں سے چاول اور زرعی اشیا ایران جاتی ہے.

انہوں نے بتایا کہ پاکستان اپنے حصے کے ریلوے لائن پر تعمیرنو کرنا چاہتا ہے مگر اس کے لئے اسے ایرانی ریلوے کی مدد کی ضرورت پڑے گی.

محمد ظفر اقبال نے مزید کہا کہ اگر ایران اور پاکستان کے درمیان ریلوے لائن کو بہتر بنادیا جائے تو ہم پاکستانی زائرین اور سیاحوں کے لئے بھی مسافربردار ریل گاڑی کا آغاز کرسکتے ہیں.

انہوں نے کہا کہ اس علاقے میں سیکورٹی کا کوئی مسئلہ درپیش نہیں اور کوئٹہ-زاہدان کے درمیان ریل گاڑیاں رات کے وقت بھی اپنا سفر جاری رکھتی ہیں.

پاکستانی عہدیدار نے بتایا کہ ریلوے لائن کی خراب حالت کی وجہ سے لوگ سڑک کے راستے ایران جاتے ہیں.

یاد رہے کہ پاکستان ایران سے کوئٹہ - زاہدان ریلوے لائن سے بذریعہ ریل منسلک ہے. ماضی کے دوران مہینے میں دو مسافر اور مال بردار ٹرینیں کوئٹہ اور زاہدان کے درمیان چلتیں تھیں.

گزشتہ برسوں میں پاکستان اور ایران نے کوئٹہ اور زاہدان کے درمیان چلنے والی مال بردار ٹرینوں کی تعداد بڑھانے کا فیصلہ کیا تھا.

274**