جوہری معاہدہ سے علیحدہ ہونے کا حق ایران کو حاصل ہے: ظریف

تہران - ارنا - ایران کے وزیر خارجہ نے جوہری معاہدے کے نفاذ کے حوالے سے امریکی خلاف ورزیوں کے ردعمل میں کہا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران، جوہری معاہدے سے علیحدگی کو اپنا حق سمجھتا ہے.

یہ بات 'محمد جواد ظریف' نے دورہ نیو یارک کے موقع پر امریکی جریدے 'نیشنل انٹرسٹ' کو خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے کہی.

انہوں نے کہا کہ ایران اپنے وعدوں پر من و عن عمل کیا ہے اور جوہری معاہدے کے حوالے سے ہونے والے خلاف ورزیوں کو مشترکہ کمیشن میں بھی اٹھایا ہے اور آئندہ بھی ایسی خلاف ورزیوں کے خلاف نوٹس لیں گے.

ظریف نے مزید کہا کہ ہمارا اصل مقصد امریکی کوتاہیوں کا مقابلہ کرنے کے لئے موثر حکمت عملی اپنانے کو یقینی بنانا ہے.

انہوں نے کہا کہ اگر دانستہ طور جوہری معاہدے کے نفاذ کی راہ میں روڑے اٹکائے گئے تو اسلامی جمہوریہ ایران کے پاس اس معاہدے سے علیحدگی اختیار کرنے کے لئے فارمولہ موجود ہے.

ظریف نے بتایا کہ ایران نے تعمیری رویے کے ساتھ سلامتی کونسل بشمول گروپ 5+1 کے ساتھ ایک جامع جوہری معاہدے کے لئے تعاون کیا اور جیسا کہ اتفاق کیا گیا تھا جوہری معاہدہ تعاون کے لئے کوئی حد بندی نہیں بلکہ ایک بنیادی مرحلہ ہے.

انہوں نے کہا کہ جوہری معاہدے کی بنیاد کو مضبوط رکھنے کے لئے ہمیں یہ اطمینان حاصل ہوگا کہ تمام فریقین اس معاہدے کے نفاذ پر من و عن عمل کریں جس سے ترقی اور تعاون کے لئے سازگار فضا قائم ہوگی.

ظریف نے علاقائی صورتحال، عراق کی داعش کے خلاف فتح اور امریکی کی ماضی کی غلط پالیسیوں کے حوالے سے بتایا کہ اس وقت خطے میں موجود بحرانوں اور مسائل کے خاتمے کے لئے ایک تعمیری حکومت عملی کی اشد ضرورت ہے.

انہوں نے مزید کہا کہ اگر ایران نے عراق کی مدد کی تو یہ صرف اہل تشیع تک محدود نہ تھی بلکہ یہ امداد غیرجانبدرانہ اور پوری عراقی قوم کے لئے تھیں.

ظریف نے کہا کہ شیعہ ہو، اہل سنت یا کُرد، ایران کی نظر میں یہ تمام افراد عراقی معاشرے میں اہم کردار کررہے ہیں لہذا ہم ان تمام لوگوں سے رابطے رکھنے کو اہم سمجھتے ہیں.

انہوں نے مزید کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران خطے میں دہشتگردی اور انتہاپسندی کے خلاف ایک پائیدار اور مضبوط حکمت عملی پر پابند ہے.

ظریف نے عربی ممالک کے درمیان حالیہ تنازعات اور سعودی عرب کے کردار کے حوالے سے بتایا کہ ہم نہیں سمجھتے ہیں کہ علاقائی معاملات پر سعودی عرب کی موجودگی کو نظرانداز کیا جاسکتا.

انہوں نے کہا کہ سعودی عرب علاقائی امن و سلامتی کے لئے ایک اہم حصہ ہے اور خطے کے دیگر ممالک کو بھی سلامتی کے حوالے سے اپنا اہم کردار ادا کرنا ہوگا.

٢٧٤**