جوہری معاہدے پر ایران کی دیانت داری کی تصدیق کرنے کے سوا وائٹ ہاؤس کے پاس کوئی چارہ نہیں

نیو یارک - ارنا - سابق امریکی صدر کے مشیر کا کہنا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ اس حقیقت سے لاتعلق نہیں رہ سکتا کہ وائٹ ہاؤس کے پاس جوہری معاہدے کے نفاذ پر اسلامی جمہوریہ ایران کی شفاف کارکردگی اور دیانت داری کی تصدیق کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے.

یہ بات 'بین روڈس' نے اپنے ٹوئٹر پیج میں وائٹ ہاؤس کی جانب سے جوہری معاہدے پر ایران اپنے وعدوں پر قائم رہنے کی تصدیق کی خبر پر اپنے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہی.

اس موقع پر انہوں نے کہا کہ وائٹ ہاوس اسلامی جمہوریہ ایران کے جوہری معاہدے پر قائم رہنے کی حقیقت کو دوبارہ تسلیم کرنے پر مجبور ہے.

امریکہ کے 'این بی سی نیوز' ٹی وی چینل کی ممتاز رپورٹر برائے خارجہ پالیسی امور 'آنڈریا میشل' نے کہا کہ ٹرمپ کی جانب سے جوہری معاہدے کے حوالے سے ایران کی دیانتداری کی تصدیق کرنے اور نئی پابندیاں عائد کرنے کی متوقع ہے.

انہوں نے اپنے ٹوئٹر پیج میں کہا کہ امریکہ کی وزارت خزانہ اور قومی سلامتی کونسل اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف نئی پابندیاں عائد کریں گے.

امریکہ کی 'ویکلی سٹینڈرڈ' نیوز ویب سائٹ نے پیر کے روز کہا کہ ٹرمپ کی حکومت اسلامی جمہوریہ ایران کو امریکہ کے مفادات کے لئے ایک بڑا خطرہ قرار دیتا ہے اور وائٹ ہاؤس ایران اور گروپ 5+1 کے ممالک کے درمیان عالمی جوہری معاہدے کو منظور کرے گا.

ویکلی سٹینڈرڈ ویب سائٹ کے مطابق ایک امریکی عہدیدار نے کہا کہ امریکہ نے جوہری معاہدے کے دوران خطے کے حوالے سے ایران کے رویے میں کوئی تبدیلی نہیں دیکھا ہے اس کے باوجود ٹرمپ اس معاہدے کو تسلیم کرے گا.

دوسرے امریکی حکام کے مطابق امریکی حکومت جوہری معاہدے سے متعلقہ موضوعات کے بغیر اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف نئی پابندیاں تجدید کرے گا.

9393*274**